السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے تین طلاقوں کو ایک قرار دیا اور اس کے خلاف وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، نا أَبُو النُّعْمَانِ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ أَبُو الصَّهْبَاءِ كَانَ كَثِيرَ السُّؤَالِ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: " بَلَى كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَنْ رَأَى النَّاسَ قَدْ تَتَابَعُوا فِيهَا قَالَ: أَجِيزُوهُنَّ عَلَيْهِمْ " قَالَ الشَّيْخُ: وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ إِذَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا تَتْرَى رَوَى جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: عُقْدَةٌ كَانَتْ بِيَدِهِ أَرْسَلَهَا جَمِيعًا وَإِذَا كَانَتْ تَتْرَى فَلَيْسَ بِشَيْءٍ ⦗٥٥٥⦘ قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: تَتْرَى يَعْنِي أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ فَإِنَّهَا تَبِينُ بِالْأُولَى وَالثِّنْتَانِ لَيْسَتَا بِشَيْءٍ، وَرُوِيَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ.طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابوصہباء نامی شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بہت زیادہ سوال کیا کرتا تھا، اس نے کہا: کیا آپ جانتے نہیں کہ جب کوئی شخص اپنی عورت کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دیتا تو رسول اللہ ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کی ابتدا میں اسے ایک ہی شمار کیا جاتا تھا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیوں نہیں! جب کوئی شخص اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دیتا تو نبی ﷺ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے ابتدائی دور میں اسے ایک ہی شمار کیا جاتا تھا، پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگوں نے مسلسل (تترا) طلاقیں دینا شروع کر دی ہیں تو انہوں نے تینوں کو ہی نافذ کر دیا۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب وہ تین طلاقیں مسلسل دینے کا قصد کر لے۔
(ب) امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جس نے اپنی بیوی کو دخول سے قبل تین طلاقیں دے دیں، انہوں نے فرمایا: ”اگر وہ چاہے تو تینوں ہی اکٹھی دے دے۔“
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”تترا“ کا معنی ہے کہ ”تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے“، وہ پہلی ایک ہی طلاق سے جدا ہو گئی اور باقی دو کچھ بھی نہیں ہیں۔