السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے تین طلاقوں کو ایک قرار دیا اور اس کے خلاف وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14984
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، يَقُولُ: مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدِي أَنَّ مَا تُطَلِّقُونَ أَنْتُمْ ثَلَاثًا كَانُوا يُطَلِّقُونَ وَاحِدَةً فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَذَهَبَ أَبُو يَحْيَى السَّاجِيُّ إِلَى أَنَّ مَعْنَاهُ إِذَا قَالَ لِلْبِكْرِ: أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ، كَانَتْ وَاحِدَةً فَغَلَّظَ عَلَيْهِمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَعَلَهَا ثَلَاثًا قَالَ الشَّيْخُ: وَرِوَايَةُ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ تَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ.حافظ ثناء اللہ
ابو زرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جو تم آج تین طلاقیں دیتے ہو، نبی ﷺ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وہ ایک طلاق دیتے تھے۔
(ب) ابو یحییٰ اساجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ کنواری سے کہے: تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق، تو ایک طلاق ہو گئی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سختی کرتے ہوئے اس کو تین ہی شمار کر دیا۔