حدیث نمبر: 14983
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ كَانَ مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الثَّلَاثَ كَانَتْ تُحْسَبُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً يَعْنِي أَنَّهُ بِأَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالَّذِي يُشْبِهُ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ عَلِمَ إِنْ كَانَ شَيْئًا فَنُسِخَ فَإِنْ قِيلَ: فَمَا دَلَّ عَلَى مَا وَصَفْتَ؟ قِيلَ: لَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرْوِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ثُمَّ يُخَالِفُهُ بِشَيْءٍ لَمْ يَعْلَمْهُ كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ خِلَافٌ قَالَ الشَّيْخُ: رِوَايَةُ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ مَضَتْ فِي النَّسْخِ وَفِيهَا تَأْكِيدٌ لِصِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ قِيلَ: فَلَعَلَّ هَذَا شَيْءٌ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ فَقَالَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ بِقَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِيلَ: قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخَالِفُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيْعِ الدِّينَارِ، بِالدِّينَارَيْنِ، وَفِي بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ وَغَيْرِهِ فَكَيْفَ يُوَافِقُهُ فِي شَيْءٍ يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ خِلَافٌ قَالَ: فَإِنْ قِيلَ: وَقَدْ ذُكِرَ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِيلَ: اللهُ أَعْلَمُ وَجَوَابُهُ حِينَ اسْتُفْتِيَ بِخِلَافِ ذَلِكَ كَمَا وَصَفْتُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَعَلَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَجَابَ عَلَى أَنَّ الثَّلَاثَ وَالْوَاحِدَةَ سَوَاءٌ وَإِذَا جَعَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَدَدَ الطَّلَاقِ عَلَى الزَّوْجِ وَأَنْ يُطَلِّقَ مَتَى شَاءَ فَسِوَاهُ الثَّلَاثُ وَالْوَاحِدَةُ وَأَكْثَرُ مِنَ الثَّلَاثِ فِي أَنْ يَقْضِيَ بِطَلَاقِهِ⦗٥٥٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَبَّرَ بِالطَّلَاقِ الثَّلَاثِ عَنْ طَلَاقِ الْبَتَّةِ فَقَدْ ذَهَبَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کا یہ معنیٰ ہو کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جاتا تھا یعنی نبی ﷺ کے حکم سے تو ممکن ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو علم ہو کہ کسی چیز نے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چیز حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرمائیں، پھر اس کی مخالفت ایسی چیز کے ذریعے کریں جو نبی ﷺ سے جانتے نہ ہوں اور جس میں اختلاف تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ اس میں نسخ ہو چکا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کی موافقت کی ہے تو ہم کہہ دیں گے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نکاحِ متعہ اور ایک دینار کے بدلے دو دینار کی بیع، اور امہات الاولاد کی بیع میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا ہے، وہ ایسی چیز میں کیسے موافقت کریں گے جس میں اختلاف تھا؟ اگر کہا جائے کہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ابتدائی دو سال کا تذکرہ کیا ہے، کہتے ہیں: اللہ خوب جانتا ہے جب ان سے فتویٰ اس کے خلاف پوچھا گیا، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تین ایک کے برابر ہیں۔ جب اللہ رب العزت نے طلاق کی تعداد خاوند کے ذمہ چھوڑی ہے کہ وہ جب چاہے طلاق دے ایک اور تین برابر ہیں اور تین سے زیادہ کا بھی۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: طلاقِ ثلاثہ سے ان کی مراد طلاقِ بتہ ہو۔ بعض لوگوں کا یہ مذہب ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14983
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ قال الشافعي في الام»