السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
حدیث نمبر: 14958
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، نا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا سُفْيَانُ، عَنْ شَقِيقٍ، سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الرَّجُلِ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: " هِيَ ثَلَاثٌ لَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " وَكَانَ إِذَا أُتِيَ بِهِ أَوْجَعَهُ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں جس نے دخول کرنے سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، فرمایا: یہ تینوں ہی واقع ہو گئیں، یہ عورت اس مرد کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرے، جب ان کے پاس کسی کو لایا جاتا تو وہ سزا دیتے۔