السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في إمضاء الطلاق الثلاث وإن كن مجموعات باب: تین طلاقوں کو نافذ کرنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان اگرچہ وہ بیک وقت دی گئی ہوں۔
حدیث نمبر: 14957
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، نا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، أَنَّ بَطَّالًا كَانَ بِالْمَدِينَةِ فَطَلَّقَ امْرَأَتَهُ أَلْفًا فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: إِنَّمَا كُنْتُ أَلْعَبُ فَعَلَاهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالدِّرَّةِ وَقَالَ: " إِنْ كَانَ لَيَكْفِيكَ ثَلَاثٌ ".حافظ ثناء اللہ
زید بن وہب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بیکار (فضول) آدمی تھا، اس نے اپنی بیوی کو ہزار طلاقیں دے دیں، معاملہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تک پہنچا تو اس نے کہا: میں تو کھیل رہا تھا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کوڑے سے مارا اور فرمایا: تین طلاقیں ہی تجھ سے کفایت کر جاتیں۔