السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الطلاق يقع على الحائض وإن كان بدعيا باب: اس بیان میں کہ حائضہ کو دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ وہ طلاقِ بدعی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَحَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ شَبِيهٌ بِهِ يَعْنِي بِمَا رَوَى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَمْرِ بِالرَّجْعَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنَافِعٌ أَثْبَتُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَالْأَثْبَتُ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ أَوْلَى أَنْ يُقَالَ بِهِ إِذَا خَالَفَهُ قَالَ: وَقَدْ وَافَقَ نَافِعٌ غَيْرَهُ مِنْ أَهْلِ الثَّبْتِ فِي الْحَدِيثِ فَقِيلَ لَهُ: أَحُسِبَتْ تَطْلِيقَةُ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطْلِيقَةً؟ قَالَ: فَمَهْ وَإِنْ عَجَزَ، يَعْنِي أَنَّهَا حُسِبَتْ ⦗٥٣٦⦘ وَالْقُرْآنُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا تُحْسَبُ قَالَ اللهُ تَعَالَى: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] لَمْ يُخَصِّصْ طَلَاقًا دُونَ طَلَاقٍ ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ لَمْ تُحْسَبْ شَيْئًا صَوَابًا غَيْرَ خَطَأٍ كَمَا يُقَالُ لِلرَّجُلِ فِي فِعْلِهِ، وَأَخْطَأَ فِي جَوَابٍ أَجَابَ بِهِ لَمْ يَصْنَعْ شَيْئًا يَعْنِي لَمْ يَصْنَعْ شَيْئًا صَوَابًا.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے رجوع کے حکم کے بارے میں نقل فرماتے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے میں ابوزبیر سے زیادہ ثقہ ہیں، اور دو حدیثوں میں اختلاف ہو تو زیادہ ثابت حدیث اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ اسے اختیار کیا جائے، اور نافع کی موافقت دوسرے ثقہ اہلِ حدیث نے بھی کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ابن عمر نے نبی ﷺ کے دور میں جو اپنی بیوی کو طلاق دی کیا اسے ایک شمار کیا گیا تھا؟ فرمایا: تو اور کیا، اگرچہ وہ عاجز رہا۔ یعنی اسے ایک شمار کیا گیا، اور قرآن کی آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229]