السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الطلاق يقع على الحائض وإن كان بدعيا باب: اس بیان میں کہ حائضہ کو دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ وہ طلاقِ بدعی ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عُرْوَةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ قَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ عَبْدُ اللهِ فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهَا شَيْئًا، وَقَالَ: " إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ " قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] أَيْ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ مُسْلِمٌ: أَخْطَأَ حَيْثُ قَالَ عُرْوَةُ وَإِنَّمَا هُوَ مَوْلَى عَزَّةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَبِي عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَفِيهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُرَاجِعْهَا " فَرَدَّهَا وَهُوَ فِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ: فَقَالَ لِي: رَاجِعْهَا فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهَا شَيْئًا.عبدالرحمن بن ایمن نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا اور ابو زبیر سن رہے تھے کہ آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے حالتِ حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ کے دور میں اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی تھی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا تھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس کو واپس کر دیا اور اس کو کچھ بھی خیال نہ کیا اور فرمایا: ”طہارت کے بعد وہ طلاق دے یا روک لے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] «أَيْ قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ»۔
(ب) ابن جریج فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے“ اور آپ ﷺ نے اس کی بیوی کو واپس کر دیا۔
(ج) عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: نبی ﷺ نے مجھے فرمایا: ”رجوع کر لو“ اور میری بیوی کو میری طرف لوٹا دیا۔