السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: الطلاق يقع على الحائض وإن كان بدعيا باب: اس بیان میں کہ حائضہ کو دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ وہ طلاقِ بدعی ہو۔
حدیث نمبر: 14919
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الرَّبِيعِ، وَمُسَدَّدٌ قَالَا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، قُلْتُ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: تَعْرِفُ ابْنَ عُمَرَ؟ إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا " قُلْتُ: فَيُعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: فَمَهْ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.حافظ ثناء اللہ
یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا مرد اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دے؟ تو فرمانے لگے: ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو، اس نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے پوچھا، آپ ﷺ نے ”رجوع“ کا حکم دیا۔ میں نے کہا: کیا وہ ایک طلاق شمار کی جائے گی؟ فرمانے لگے: اگر وہ عاجز آ جائے یا بے وقوف ہو جائے۔