حدیث نمبر: 14918
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَيِّنٌ يَعْنِي فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الطَّلَاقَ يَقَعُ عَلَى الْحَائِضِ؛ لِأَنَّهُ إِنَّمَا يُؤْمَرُ بِالْمُرَاجَعَةِ مَنْ لَزِمَهُ الطَّلَاقُ، فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَلْزَمْهُ الطَّلَاقُ فَهُوَ بِحَالِهِ قَبْلَ الطَّلَاقِ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ ذَكَرْنَا حَدِيثَ سَالِمٍ وَنَافِعٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
حافظ ثناء اللہ

امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یعنی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں یہ بات واضح ہے کہ حیض والی عورت پر طلاق واقع ہو جاتی ہے، کیونکہ رجوع کا حکم اسی کو دیا جاتا ہے جس پر طلاق لازم ہو چکی ہو، رہا وہ شخص جس پر طلاق لازم ہی نہ ہوئی ہو تو وہ اپنی اسی حالت پر ہے جو طلاق سے پہلے تھی۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سالم، نافع اور عبداللہ بن دینار رحمہم اللہ کی (روایت کردہ) حدیث ذکر کر چکے ہیں۔“

وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ إِمْلَاءً نا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، نا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، نا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: تَعْرِفُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ ⦗٥٣٣⦘ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ " فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا فِي قُبُلِ عِدَّتِهَا "، قَالَ: قُلْتُ: فَيَعْتَدُّ بِهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: " أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ " رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: فَيُعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ.
حافظ ثناء اللہ

یونس بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: جس شخص نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی (اس کا کیا حکم ہے)؟ کہتے ہیں: کیا تم ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے رجوع کا حکم فرمایا اور فرمایا: ”پھر وہ عدت سے پہلے طلاق دے۔“ میں نے کہا: کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ عاجز آجائے یا بے وقوف ہوجائے۔
(ب) حجاج بن منہال نے کہا کہ وہ ایک طلاق شمار کی جائے گی اور وہ عدت گزارے گی۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الخلع والطلاق / حدیث: 14918
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»