السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في كراهية الطلاق باب: طلاق کی کراہت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14901
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ نا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، نا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ بَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ وَأُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَلَامٌ فَأَرَادَ أَبُو طَلْحَةَ أَنْ يُطَلِّقَ أُمَّ سُلَيْمٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ طَلَاقَ أُمِّ سُلَيْمٍ لَحَوْبٌ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ اور ام سلیم رضی اللہ عنہما کے درمیان کچھ اختلاف تھا تو ابو طلحہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو طلاق دینے کا ارادہ کر لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ام سلیم کی طلاق نافرمانی اور گناہ ہے۔“