کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: طلاق کی کراہت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُعَرَّفِ بْنِ وَاصِلٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَى اللهِ الطَّلَاقُ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ مبغوض چیز اللہ کے ہاں طلاق ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ نا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، نا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، نا مُعَرَّفٌ، عَنْ مُحَارِبٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا أَحَلَّ اللهُ شَيْئًا أَبْغَضَ إِلَيْهِ مِنَ الطَّلَاقِ " هَذَا حَدِيثُ أَبِي دَاوُدَ وَهُوَ مُرْسَلٌ وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي شَيْبَةَ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ مَوْصُولًا وَلَا أَرَاهُ حَفِظَهُ.
حافظ ثناء اللہ
محارب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو چیز اللہ رب العزت نے حلال کی ہے اس میں سے سب سے زیادہ ناپسندیدہ چیز اللہ کو طلاق ہے۔“
یہ ابوداود کی حدیث ہے اور یہ مرسل ہے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے موصولاً ہے، لیکن میرا خیال نہیں کہ انہوں نے اسے صحیح طور پر یاد رکھا ہو۔
یہ ابوداود کی حدیث ہے اور یہ مرسل ہے۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں یہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے موصولاً ہے، لیکن میرا خیال نہیں کہ انہوں نے اسے صحیح طور پر یاد رکھا ہو۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ مِنْ أَصْلِ سَمَاعِهِ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ الْبَغْدَادِيُّ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا مُعَرَّفُ بْنُ وَاصِلٍ، حَدَّثَنِي مُحَارِبُ بْنُ دِثَارٍ قَالَ: تَزَوَّجَ رَجُلٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ امْرَأَةً فَطَلَّقَهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَتَزَوَّجْتَ؟ " قَالَ: نَعَمْ قَالَ: " ثُمَّ مَاذَا؟ " قَالَ: ثُمَّ طَلَّقْتُ قَالَ: " أَمِنْ رِيبَةٍ؟ " قَالَ: لَا قَالَ: " قَدْ يَفْعَلُ ذَلِكَ الرَّجُلُ " قَالَ: ثُمَّ تَزَوَّجَ امْرَأَةً أُخْرَى فَطَلَّقَهَا فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ ذَلِكَ قَالَ مُعَرَّفٌ: فَمَا أَدْرِي أَعِنْدَ هَذَا أَوْ عِنْدَ الثَّالِثَةِ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ مِنَ الْحَلَالِ أَبْغَضَ إِلَى اللهِ مِنَ الطَّلَاقِ " ⦗٥٢٨⦘ وَرَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ الْوَصَّافِيُّ عَنْ مُحَارِبٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مَوْصُولًا مُخْتَصَرًا.
حافظ ثناء اللہ
محارب بن دثار فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے دور میں ایک شخص نے شادی کے بعد بیوی کو طلاق دے دی تو آپ ﷺ نے اس سے پوچھا: ”کیا تو نے شادی کی ہے؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”پھر کیا ہوا؟“ اس نے کہا: پھر میں نے طلاق دے دی۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا شک کی وجہ سے؟“ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”کبھی کبھی انسان ایسا کرلیتا ہے۔“ اس نے پھر کسی دوسری عورت سے شادی کرنے کے بعد طلاق دے دی۔ معرف کہتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ ﷺ نے اس کو دوسری یا تیسری شادی کے موقع پر یہ الفاظ کہے کہ: ”حلال چیزوں میں سے سب سے زیادہ مبغوض ترین چیز اللہ کے ہاں طلاق ہے۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: كَانَ رَجُلٌ يَقُولُ: قَدْ طَلَّقْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ يَلْعَبُونَ بِحُدُودِ اللهِ؟ " هَذَا مُرْسَلٌ.
حافظ ثناء اللہ
ابواسحاق، ابوبردہ رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا: ”میں نے تجھے طلاق دی“، تو کبھی کہتا: ”میں نے رجوع کر لیا“۔ نبی ﷺ کو اس بات کا علم ہوا تو فرمایا: ”مردوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اللہ کی حدود کے ساتھ کھیلتے ہیں؟“
یہ روایت مرسل ہے۔
یہ روایت مرسل ہے۔
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْهَرَوِيُّ أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو حُذَيْفَةَ مُوسَى بْنُ مَسْعُودٍ نا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ أَقْوَامٍ يَلْعَبُونَ بِحُدُودِ اللهِ طَلَّقْتُكِ رَاجَعْتُكِ طَلَّقْتُكِ رَاجَعْتُكِ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”لوگوں کو کیا ہوا ہے کہ وہ اللہ کی حدود کے ساتھ کھیلتے ہیں: میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھ سے رجوع کیا، میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تجھ سے رجوع کیا۔“
وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ مَوْصُولًا إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: " مَا بَالُ رِجَالٍ؟ " وَقَالَ يَقُولُ: أَحَدُكُمْ قَدْ طَلَّقْتُكِ قَدْ رَاجَعْتُكِ، وَكَأَنَّهُ كَرِهَ الِاسْتِكْثَارَ مِنْهُ أَوْ كَرِهَ إِيقَاعَهُ فِي كُلِّ وَقْتٍ مِنْ غَيْرِ مُرَاعَاةٍ لِوَقْتِهِ الْمَسْنُونِ.
حافظ ثناء اللہ
سفیان رحمہ اللہ موصولاً ذکر کرتے ہیں کہ مردوں کی کیا حالت ہے؟ اور فرمایا: ”تم میں سے کوئی کہتا ہے کہ میں نے تجھے طلاق دی، میں نے تم سے رجوع کیا“، آپ ﷺ نے اس زیادتی کو ناپسند فرمایا یا بغیر مسنون وقت کی رعایت رکھے طلاق دینے کو۔
فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، نا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي خَالِدٍ الدَّالَانِيِّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ الْأَوْدِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحِمْيَرِيِّ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لِمَ يَقُولُ أَحَدُكُمْ لِامْرَأَتِهِ قَدْ طَلَّقْتُكِ، قَدْ رَاجَعْتُكِ لَيْسَ هَذَا بِطَلَاقِ الْمُسْلِمِينَ طَلِّقُوا الْمَرْأَةَ فِي قُبُلِ طُهْرِهَا ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”تم میں سے کوئی ایک اپنی بیوی سے یہ کیوں کہتا ہے کہ میں نے تجھے طلاق دی اور میں نے تم سے رجوع کر لیا؟ یہ مسلمانوں کے طلاق دینے کا طریقہ نہیں ہے، تم عورتوں کو ان کے طہر کے آغاز میں طلاق دو۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّحْوِيُّ نا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، نا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ بَيْنَ أَبِي طَلْحَةَ وَأُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَلَامٌ فَأَرَادَ أَبُو طَلْحَةَ أَنْ يُطَلِّقَ أُمَّ سُلَيْمٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنَّ طَلَاقَ أُمِّ سُلَيْمٍ لَحَوْبٌ ".
حافظ ثناء اللہ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ابو طلحہ اور ام سلیم رضی اللہ عنہما کے درمیان کچھ اختلاف تھا تو ابو طلحہ نے ام سلیم رضی اللہ عنہا کو طلاق دینے کا ارادہ کر لیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ام سلیم کی طلاق نافرمانی اور گناہ ہے۔“