السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الخلع والطلاق— خلع اور طلاق کا بیان
باب: ما جاء في طلاق السنة وطلاق البدعة باب: طلاقِ سنت اور طلاقِ بدعت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ اللهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: {إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: 1]، وَقُرِئَتْ لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ وَهُمَا لَا يَخْتَلِفَانِ فِي مَعْنًى.امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ تبارک و تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ ”جب تم عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت (کے آغاز) کے وقت طلاق دو۔“ [سورة الطلاق: 1]
اور اسے «لِقُبُلِ عِدَّتِهِنَّ» (ان کی عدت کے سامنے آنے پر) بھی پڑھا گیا ہے، اور یہ دونوں (قراءتیں) معنی میں ایک دوسرے سے مختلف نہیں ہیں۔“
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي ⦗٥٢٩⦘ عَمْرٍو قَالُوا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، نا حَجَّاجٌ قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عَزَّةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ، قَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لِيُرَاجِعْهَا " فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَقَالَ: " إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ ". قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ} [الطلاق: ١] " فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ هَارُونَ بْنِ عَبْدِ اللهِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ.عبدالرحمن بن ایمن نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور ابو زبیر سے سوال کیا کہ جو شخص اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دے اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ ﷺ کے دور میں حالتِ حیض میں طلاق دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے۔“ تو آپ ﷺ نے اس پر بیوی کو واپس کر دیا اور فرمایا: ”جب وہ پاک ہو جائے تو طلاق دے دینا یا روک لینا۔“ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1]۔