السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في دخول الحمام باب: حمام (غسل خانے) میں داخل ہونے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، نا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ نِسَائِكُمْ فَلَا تَدْخُلَنَّ الْحَمَّامَ " قَالَ: فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ فَكَتَبَ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنْ سَلْ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ حَدِيثِهِ فَإِنَّهُ رِضًا فَسَأَلَهُ ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَمَنَعَ عُمَرُ النِّسَاءَ مِنَ الْحَمَّامِ.حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں چادر سمیت داخل ہو اور اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی عورتیں حمام میں داخل نہ ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ یہ بات حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تک ان کی خلافت میں پہنچی تو انہوں نے ابوبکر بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ آپ محمد بن ثابت رحمہ اللہ سے ان کی اس حدیث کے بارے میں سوال کریں کیونکہ وہ پسندیدہ (ثقہ) آدمی ہیں، تو انہوں نے ان سے پوچھ کر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا۔ پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عورتوں کو حمام میں داخل ہونے سے روک دیا۔