کتب حدیث ›
السنن الكبرى للبيهقي › ابواب
› باب: حمام (غسل خانے) میں داخل ہونے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14802
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا حَمَّادٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنْ دُخُولِ الْحَمَّامَاتِ، ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوا وَعَلَيْهِمُ الْأُزُرُ وَلَمْ يُرَخِّصْ لِلنِّسَاءِ " لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئِ وَفِي رِوَايَةِ الرُّوذْبَارِيِّ نَهَى عَنْ دُخُولِ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَيَازِرِ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی ﷺ نے ”مردوں اور عورتوں کو حمام میں داخل ہونے سے منع فرمایا ہے۔“ پھر مردوں کو ”چادروں سمیت داخل ہونے کی اجازت دی“ اور عورتوں کو رخصت نہ دی۔
(ب) روذباری کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ”حماموں میں داخل ہونے سے منع فرما دیا، پھر مردوں کو اجازت مل گئی اس شرط پر کہ وہ چادروں سمیت داخل ہوں۔“
(ب) روذباری کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے ”حماموں میں داخل ہونے سے منع فرما دیا، پھر مردوں کو اجازت مل گئی اس شرط پر کہ وہ چادروں سمیت داخل ہوں۔“
حدیث نمبر: 14803
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، نا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي مَلِيحٍ الْهُذَلِيِّ، أَنَّ نِسَاءً مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ أَوْ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ دَخَلْنَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: أَنْتُنَّ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ نِسَاؤُكُنَّ الْحَمَّامَاتِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا هَتَكَتِ السِّتْرَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا.
حافظ ثناء اللہ
ابو ملیح ہذلی سے روایت ہے کہ اہل حمص یا اہل شام کی عورتیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے فرمایا: کیا تم وہ عورتیں ہو جو حماموں میں داخل ہوتی ہو؟ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”جو عورت اپنے کپڑے خاوند کے گھر کے علاوہ اتارتی ہے تو وہ اپنے اور اللہ کے درمیان پردے کو پھاڑ ڈالتی ہے۔“
حدیث نمبر: 14804
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّهَا سَتُفْتَحُ لَكُمْ أَرْضُ الْأَعَاجِمِ وَسَتَجِدُونَ فِيهَا بُيُوتًا يُقَالُ لَهَا الْحَمَّامَاتُ فَلَا يَدْخُلَنَّهَا الرِّجَالُ إِلَّا بِالْأُزُرِ، وَامْنَعُوا النِّسَاءَ أَنْ يَدْخُلْنَهَا إِلَّا مَرِيضَةً أَوْ نُفَسَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”عجمیوں کی زمین فتح ہوگی تو تم وہاں کچھ گھر پاؤ گے جن کو حمام کہا جاتا ہوگا، ان میں مرد چادر باندھ کر جائیں اور عورتوں کو منع کرو، صرف بیمار یا نفاس والی داخل ہو۔“
حدیث نمبر: 14805
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْذَرُوا بَيْتًا يُقَالُ لَهُ الْحَمَّامُ " قِيلَ: فَإِنَّهُ يَذْهَبُ بِالْوَسَخِ وَيَنْفَعُ قَالَ: " فَمَنْ دَخَلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ " قَالَ سُلَيْمَانُ: هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَغَيْرُهُ مَقْطُوعًا وَرَوَاهُ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان گھروں سے بچو جن کو حمام کہا جاتا ہے،“ کہا گیا: وہ میل ختم کرتے ہیں اور نفع دیتے ہیں، فرمایا: ”جو ان میں داخل ہو وہ با پردہ داخل ہو۔“
حدیث نمبر: 14806
أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنا سُلَيْمَانُ، نا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، نا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " احْذَرُوا بَيْتًا يُقَالُ لَهُ الْحَمَّامُ " قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يُنْتَفَعُ بِهِ وَيُنَقِّي الْوَسَخَ، قَالَ: " فَاسْتَتِرُوا " قَالَ الشَّيْخُ: رَوَاهُ الْجُمْهُورُ عَنِ الثَّوْرِيِّ عَلَى الْإِرْسَالِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَغَيْرُهُمْ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ مُرْسَلًا، وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ مَوْصُولًا.
حافظ ثناء اللہ
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ان گھروں سے بچو جن کو حمام کہا جاتا ہے“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان سے نفع حاصل کیا جاتا ہے اور میل صاف کی جاتی ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”باپردہ داخل ہوا کرو“۔
حدیث نمبر: 14807
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، نا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ نِسَائِكُمْ فَلَا تَدْخُلَنَّ الْحَمَّامَ " قَالَ: فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ فَكَتَبَ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنْ سَلْ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ حَدِيثِهِ فَإِنَّهُ رِضًا فَسَأَلَهُ ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَمَنَعَ عُمَرُ النِّسَاءَ مِنَ الْحَمَّامِ.
حافظ ثناء اللہ
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں چادر سمیت داخل ہو اور اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی عورتیں حمام میں داخل نہ ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ اس نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی طرف اس کی نسبت کی۔ انہوں نے اپنی خلافت میں ابوبکر بن حزم رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ آپ محمد بن ثابت رحمہ اللہ سے اس حدیث کے بارے میں سوال کریں کہ وہ راضی ہیں تو انہوں نے پوچھنے کے بعد لکھا۔ پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عورتوں کو حمام میں داخل ہونے سے روک دیا۔
حدیث نمبر: 14808
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حُدَيْرِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ⦗٥٠٥⦘ الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ الْحَمَّامَ فَيَقُولُ: " نِعْمَ الْبَيْتُ الْحَمَّامُ يُذْهِبُ الْوَسَخَ وَيُذَكِّرُ النَّارَ "، يَقُولُ: " بِئْسَ الْبَيْتُ الْحَمَّامُ؛ لِأَنَّهُ يَكْشِفُ عَنْ أَهْلِهِ الْحَيَاءَ ".
حافظ ثناء اللہ
جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ حمام میں داخل ہوئے تھے اور فرماتے تھے کہ حمام اچھا گھر ہے، وہ میل کو دور کرتا ہے اور آگ کو یاد دلاتا ہے، اور وہ فرماتے تھے کہ حمام برا گھر ہے کیونکہ اس کے اہل سے حیا ختم ہو جاتی ہے۔
حدیث نمبر: 14809
قَالَ: وَنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنِ الْحَمَّامِ لِلنِّسَاءِ قَالَ: " لَسْنَا نَرَاهُ حَرَامًا، وَلَكِنَّنَا نَنْهَى نِسَاءَنَا عَنْهُ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع رحمہ اللہ سے عورتوں کے لیے حمام کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: ہم اس کو حرام تو خیال نہیں کرتے ہیں لیکن ہم اپنی عورتوں کو اس سے منع کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14810
قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ثُمَّ سَأَلْتُ بُكَيْرًا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: " لَسْنَا نَرَاهُ حَرَامًا وَأَنْ يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَهُنَّ " وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ: " نِعْمَ الْبَيْتُ الْحَمَّامُ يُذْهِبُ الْوَسَخَ وَيُذَكِّرُ النَّارَ ".
حافظ ثناء اللہ
سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے بکیر سے سوال کیا تو فرمانے لگے: ہم حرام تو خیال نہیں کرتے لیکن عورتیں ان سے بچیں تو بہتر ہے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حمام اچھا گھر ہے، وہ میل کچیل کو ختم کرتا ہے اور جہنم کی یاد دلاتا ہے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حمام اچھا گھر ہے، وہ میل کچیل کو ختم کرتا ہے اور جہنم کی یاد دلاتا ہے۔