السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحكمين في الشقاق بين الزوجين باب: میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہونے پر دو ثالث مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14790
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، أنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، نا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا هُشَيْمٌ، أنا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً نَشَزَتْ عَلَى زَوْجِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى شُرَيْحٍ فَقَالَ شُرَيْحٌ: " ابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا " فَفَعَلُوا فَنَظَرَ الْحَكَمَانِ إِلَى أَمْرِهِمَا فَرَأَيَا أَنْ يُفَرِّقَا بَيْنَهُمَا فَكَرِهَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ شُرَيْحٌ: " فَفِيمَ كُنَّا فِيهِ الْيَوْمَ وَأَجَازَ أَمْرَهُمَا ".حافظ ثناء اللہ
حضرت حصین، امام شعبی رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب عورت نے خاوند کی نافرمانی کی تو فیصلہ قاضی شریح رحمہ اللہ کی عدالت میں آیا، قاضی شریح رحمہ اللہ نے دونوں جانب سے ایک ایک فیصل مقرر کر دیا تو دونوں نے یہ فیصلہ کیا کہ ان کے درمیان جدائی کر دی جائے تو مرد نے اسے ناپسند کیا۔ قاضی شریح رحمہ اللہ نے کہا: ہم آج کس کا فیصلہ تسلیم کریں؟ تو قاضی نے دونوں کے فیصلے کو درست قرار دیا۔