السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحكمين في الشقاق بين الزوجين باب: میاں بیوی کے درمیان شدید اختلاف پیدا ہونے پر دو ثالث مقرر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14789
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ قَالَا: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " إِذَا حَكَمَ أَحَدُ الْحَكَمَيْنِ وَلَمْ يَحْكُمِ الْآخَرُ فَلَيْسَ حُكْمُهُ بِشَيْءٍ حَتَّى يَجْتَمِعَا ".حافظ ثناء اللہ
حارث، حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب ایک فیصل فیصلہ کرے اور دوسرا تسلیم نہ کرے تو ان کا فیصلہ معتبر نہیں ہے، جب تک دونوں کی رائے ایک نہ ہو۔