السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: لا يسأل الرجل فيم ضرب امرأته باب: اس بیان میں کہ مرد سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی بیوی کو کس بات پر مارا۔
حدیث نمبر: 14778
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ، عَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: ضِفْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ لِي: يَا أَشْعَثُ احْفَظْ عَنِّي ثَلَاثًا حَفِظْتُهُنَّ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَسْأَلِ الرَّجُلَ فِيمَ ضَرَبَ امْرَأَتَهُ، وَلَا تَنَامَنَّ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ " وَنَسِيتُ الثَّالِثَةَ وَقَالَ غَيْرُهُ عَنْ أَبِي دَاوُدَ فِي هَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمُسْلِيِّ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا مہمان تھا، انہوں نے مجھ سے کہا: اے اشعث! مجھ سے تین چیزیں یاد کر لے کہ میں نے وہ تین چیزیں نبی ﷺ سے یاد کی تھیں: ”کسی مرد سے یہ سوال نہ کرنا کہ اس نے اپنی بیوی کو کس وجہ سے مارا ہے“ اور ”وتر پڑھے بغیر نہ سونا۔“ راوی کہتے ہیں: میں تیسری چیز بھول گیا۔