السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: لا يضرب الوجه ولا يقبح ولا يهجر إلا في البيت باب: اس بیان میں کہ چہرے پر نہ مارا جائے، نہ برے الفاظ کہے جائیں، اور گھر کے سوا کہیں اور بستر الگ نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 14779
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ الْفَقِيهُ نا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، نا أَبُو قَزَعَةَ سُوَيْدُ بْنُ حُجَيْرٍ الْبَاهِلِيُّ عَنْ حَكِيمِ بْنِ مُعَاوِيَةَ الْقُشَيْرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا حَقُّ زَوْجَةِ أَحَدِنَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: " أَنْ تُطْعِمَهَا إِذَا طَعِمْتَ، وَتَكْسُوَهَا إِذَا اكْتَسَيْتَ، وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْهَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَهْجُرْ إِلَّا فِي الْبَيْتِ ".حافظ ثناء اللہ
حکیم بن معاویہ قشیری رحمہ اللہ اپنے والد معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! بیویوں کا مردوں پر کیا حق ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اس کو کھلا جب کھائے اور تو اس کو پہنا جب پہنے اور چہرے پر مت مار اور تو برا بھلا مت کہہ اور صرف گھر میں چھوڑ دے۔“