السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في ضربها باب: عورت کو مارنے (سزا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، نا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى بَعْضَ أَهْلِ بَيْتِهِ " لَا تُشْرِكْ بِاللهِ وَإِنْ عُذِّبْتَ وَإِنْ حُرِّقْتَ، وَأَطِعْ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ فَاخْرُجْ وَلَا تَتْرُكِ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ إِيَّاكَ، وَالْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ، وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ فَإِنَّهَا لَسُخْطُ اللهِ لَا تُنَازِعَنَّ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّ لَكَ، وَلَا تَفِرَّ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتَانِ وَأَنْتَ فِيهِمْ فَاثْبُتْ، أَنْفِقْ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ وَأَخِفْهُمْ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " قَالَ الشَّيْخُ: فِي هَذَا إِرْسَالٌ بَيْنَ مَكْحُولٍ وَأُمِّ أَيْمَنَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ الْكِسَائِيُّ وَغَيْرُهُ: يُقَالُ إِنَّهُ لَمْ يُرِدِ الْعَصَا الَّتِي يُضْرَبُ بِهَا وَلَا أَمَرَ أَحَدًا قَطُّ بِذَلِكَ وَلَكِنَّهُ أَرَادَ الْأَدَبَ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَأَصْلُ الْعَصَا الِاجْتِمَاعُ وَالِائْتِلَافُ.سیدہ امِ ایمن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں کو نصیحت کی کہ: ”اللہ کے ساتھ شرک نہ کریں، اگرچہ عذاب دیا جائے یا جلا دیا جائے، اور اپنے والدین کی اطاعت کرو، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ ہر چیز کو چھوڑ دو، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر نہ چھوڑنا، جس نے فرض نماز کو جان بوجھ کر چھوڑا، اس سے اللہ کا ذمہ ختم ہو گیا، شراب سے بچو کیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے، اور نافرمانی سے بچو، یہ اللہ کی ناراضگی ہے، اور حکومت والوں سے حکومت نہ چھینو، اگرچہ آپ کا خیال ہے کہ آپ کے لیے مناسب ہے، اور لڑائی سے نہ بھاگ، اگرچہ لوگوں کو موت آئے۔ اگر تو ان میں موجود ہو تو ثابت قدم رہ، اور اپنے گھر والوں پر اپنے مال سے خرچ کر، اور اپنی لاٹھی ان سے نہ اٹھا، اور تو ان کے بارے میں اللہ رب العزت سے ڈر۔“ کسائی وغیرہ فرماتے ہیں کہ لاٹھی سے مراد وہ نہیں جس سے مارا جاتا ہے بلکہ ادب سکھلانا مقصود ہے۔