کتب حدیثالسنن الكبرى للبيهقيابوابباب: عورت کو مارنے (سزا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، أنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخُطْبَتِهِ بِعَرَفَةَ قَالَ: " اتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ، وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ " أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی ﷺ کے حج اور عرفہ کے خطبہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، تم نے اللہ کے وعدے اور نکاح کے ذریعے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے اور تمہارا حق ان کے ذمے یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر کو نہ روندیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو۔ اگر وہ پھر ایسا کریں تو ظاہر نہ ہونے والی پٹائی کرو اور ان کے حقوق تمہارے ذمہ یہ ہیں کہ ان کا کھلانا اور پہننا اچھائی کے ساتھ ہو۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14774
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح۔ مسلم 1218»
حدیث نمبر: 14775
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " " لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللهِ " " قَالَ: فَذَئِرَ النِّسَاءُ وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللهِ: ذَئِرَ النِّسَاءُ وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ مُنْذُ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِهِنَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " " فَاضْرِبُوهُنَّ " "، قَالَ: فَضَرَبَ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَ: فَأَتَى نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ: " " لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ وَايْمُ اللهِ لَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ " " بَلَغَنَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: لَا يُعْرَفُ لِإِيَاسٍ صُحْبَةٌ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُرْسَلًا.
حافظ ثناء اللہ
سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تم اللہ کی بندیوں کو نہ مارو۔“ کہنے لگے: عورتیں دلیر ہوگئی ہیں اور اپنے خاوندوں سے برے اخلاق سے پیش آتی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! عورتیں دلیر ہوگئی ہیں اور ان کے اخلاق خاوندوں کے خلاف بگڑ گئے ہیں جب سے آپ نے ان کو مارنے سے منع کیا ہے، نبی ﷺ نے فرمایا: ”ان کو مارو۔“ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے اس رات اپنی عورتوں کی پٹائی کی۔ راوی کہتے ہیں: بہت ساری عورتیں پٹائی کی شکایت لے کر حاضر ہوگئیں، نبی ﷺ نے جب صبح کی تو فرمایا: ”آلِ محمد ﷺ کے پاس ۷۰ عورتیں آئیں، وہ ساری کی ساری مار کی شکایت کر رہی تھیں، اللہ کی قسم! تم ایسے لوگوں کو اچھے لوگ نہیں پاؤ گے۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14775
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»
حدیث نمبر: 14776
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ أنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ نا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَا: نا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ: " كَانَ الرِّجَالُ نُهُوا عَنْ ضَرْبِ النِّسَاءِ، ثُمَّ شَكَوْهُنَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ ضَرْبِهِنَّ ثُمَّ قُلْتُ: لَقَدْ طَافَ اللَّيْلَةَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ قَدْ ضُرِبَتْ " قَالَ يَحْيَى: وَحَسِبْتُ أَنَّ الْقَاسِمَ قَالَ: ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ بَعْدُ: وَلَنْ يَضْرِبَ خِيَارُكُمْ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مردوں کو عورتوں کے مارنے سے منع کر دیا گیا تو انہوں نے عورتوں کی شکایت نبی ﷺ سے کی تو آپ ﷺ نے ان کے مارنے کی اجازت دے دی۔ پھر میں نے کہا کہ آلِ محمد ﷺ کے پاس آج رات ٧٠ ستر عورتیں آئیں جن کو مارا گیا تھا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ قاسم تھے۔ راوی کہتے ہیں: پھر بعد میں ان سے کہا گیا: ”تمہارے اچھے لوگ ہرگز نہ ماریں۔“
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14776
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره»
حدیث نمبر: 14777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، نا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى بَعْضَ أَهْلِ بَيْتِهِ " لَا تُشْرِكْ بِاللهِ وَإِنْ عُذِّبْتَ وَإِنْ حُرِّقْتَ، وَأَطِعْ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ فَاخْرُجْ وَلَا تَتْرُكِ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ إِيَّاكَ، وَالْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ، وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ فَإِنَّهَا لَسُخْطُ اللهِ لَا تُنَازِعَنَّ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّ لَكَ، وَلَا تَفِرَّ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتَانِ وَأَنْتَ فِيهِمْ فَاثْبُتْ، أَنْفِقْ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ وَأَخِفْهُمْ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ " قَالَ الشَّيْخُ: فِي هَذَا إِرْسَالٌ بَيْنَ مَكْحُولٍ وَأُمِّ أَيْمَنَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ الْكِسَائِيُّ وَغَيْرُهُ: يُقَالُ إِنَّهُ لَمْ يُرِدِ الْعَصَا الَّتِي يُضْرَبُ بِهَا وَلَا أَمَرَ أَحَدًا قَطُّ بِذَلِكَ وَلَكِنَّهُ أَرَادَ الْأَدَبَ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَأَصْلُ الْعَصَا الِاجْتِمَاعُ وَالِائْتِلَافُ.
حافظ ثناء اللہ
سیدہ امِ ایمن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے گھر والوں کو نصیحت کی کہ: ”اللہ کے ساتھ شرک نہ کریں، اگرچہ عذاب دیا جائے یا جلا دیا جائے، اور اپنے والدین کی اطاعت کرو، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ ہر چیز کو چھوڑ دو، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر نہ چھوڑنا، جس نے فرض نماز کو جان بوجھ کر چھوڑا، اس سے اللہ کا ذمہ ختم ہو گیا، شراب سے بچو کیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے، اور نافرمانی سے بچو، یہ اللہ کی ناراضگی ہے، اور حکومت والوں سے حکومت نہ چھینو، اگرچہ آپ کا خیال ہے کہ آپ کے لیے مناسب ہے، اور لڑائی سے نہ بھاگ، اگرچہ لوگوں کو موت آئے۔ اگر تو ان میں موجود ہو تو ثابت قدم رہ، اور اپنے گھر والوں پر اپنے مال سے خرچ کر، اور اپنی لاٹھی ان سے نہ اٹھا، اور تو ان کے بارے میں اللہ رب العزت سے ڈر۔“ کسائی وغیرہ فرماتے ہیں کہ لاٹھی سے مراد وہ نہیں جس سے مارا جاتا ہے بلکہ ادب سکھلانا مقصود ہے۔
حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14777
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف»