السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: القسم للنساء إذا حضر سفر باب: سفر پیش آنے کی صورت میں عورتوں (بیویوں) کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرُّوذْبَارِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ الْعَدْلُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ مَيْمُونٍ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ، حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا خَرَجَ أَقْرَعَ بَيْنَ نِسَائِهِ فَطَارَتِ الْقُرْعَةُ عَلَى عَائِشَةَ وَحَفْصَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَخَرَجَتَا جَمِيعًا، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَارَ بِاللَّيْلِ سَارَ مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا يَتَحَدَّثُ مَعَهَا فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ أَلَا تَرْكَبِينَ اللَّيْلَةَ بَعِيرِي وَأَرْكَبُ بَعِيرَكِ فَتَنْظُرِينَ وَأَنْظُرُ، قَالَتْ: بَلَى فَرَكِبَتْ عَائِشَةُ عَلَى بَعِيرِ حَفْصَةَ وَرَكِبَتْ حَفْصَةُ عَلَى بَعِيرِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فَجَاءَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى جَمَلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَلَيْهِ حَفْصَةُ فَسَلَّمَ وَسَارَ مَعَهَا حَتَّى نَزَلُوا فَافْتَقَدَتْهُ عَائِشَةُ، فَلَمَّا نَزَلُوا جَعَلَتْ تَجْعَلُ رِجْلَيْهَا فِي الْإِذْخِرِ وَتَقُولُ: يَا رَبِّ سَلِّطْ عَلَيَّ عَقْرَبًا أَوْ حَيَّةً تَلْدَغُنِي وَرَسُولُكَ لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَقُولَ لَهُ شَيْئًا رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاهَوَيْهِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ.قاسم بن محمد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب نکلتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے۔ ایک مرتبہ قرعہ حضرت عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہما کا نکلا تو وہ دونوں اکٹھی نکلیں اور رسول اللہ ﷺ جب رات کے وقت چلتے تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ باتیں کرتے رہتے۔ حفصہ رضی اللہ عنہا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہنے لگیں: کیا آج رات آپ میرے اونٹ پر سوار نہیں ہوتیں اور میں آپ کے اونٹ پر سوار ہوجاتی ہوں تو آپ دیکھیں گی اور میں دیکھوں گی؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: کیوں نہیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا حفصہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ پر سوار ہوگئیں۔ رسول اللہ ﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اونٹ کے پاس آئے، حالانکہ اس پر حفصہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ آپ ﷺ سلام کہہ کر ان کے ساتھ چل پڑے یہاں تک کہ انھوں نے پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ ﷺ کو گم پایا۔ جب پڑاؤ کیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا پاؤں گھاس میں رکھ دیا اور کہنے لگیں: اے میرے رب! میرے اوپر کوئی بچھو یا سانپ مسلط کر دے جو مجھے ڈس لے، میں تیرے رسول ﷺ سے کوئی بات کہنے کی ہمت نہیں رکھتی۔