السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: القسم للنساء إذا حضر سفر باب: سفر پیش آنے کی صورت میں عورتوں (بیویوں) کے درمیان باری مقرر کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمَدَنِيُّ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيِّ، وَعُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَالَ لَهَا أَهْلُ الْإِفْكِ مَا قَالُوا فَبَرَّأَهَا اللهُ مِنْهُ قَالَ الزُّهْرِيُّ: وَكُلُّهُمْ حَدَّثَنِي طَائِفَةً مِنْ حَدِيثِهَا، وَبَعْضُهُمْ أَوْعَى لَهُ مِنْ بَعْضٍ وَأَثْبَتُ لَهُ اقْتِصَاصًا وَقَدْ وَعَيْتُ عَنْ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمُ الْحَدِيثَ الَّذِي حَدَّثَنِي عَنْ عَائِشَةَ ⦗٤٩٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَبَعْضُ حَدِيثِهِمْ يُصَدِّقُ بَعْضًا زَعَمُوا أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أَرَادَ سَفَرًا أَقْرَعَ بَيْنَ أَزْوَاجِهِ فَأَيَّتُهُنَّ خَرَجَ سَهْمُهَا خَرَجَ بِهَا مَعَهُ قَالَتْ: فَأَقْرَعَ بَيْنَنَا فِي غَزَاةٍ غَزَاهَا فَخَرَجَ سَهْمِي فَخَرَجْتُ مَعَهُ بَعْدَ مَا أُنْزِلَ الْحِجَابُ " وَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب تہمت لگانے والوں نے جو کہنا تھا وہ کہہ دیا، پھر اللہ رب العزت نے ان کو بری کر دیا؛ امام زہری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک گروہ نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا جو ایک دوسرے سے بڑھ کر یاد رکھنے والے تھے اور میں نے ان میں سے ہر ایک کی حدیث کو یاد رکھا جس نے مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا، کیونکہ ان کی حدیث ایک دوسرے کی تصدیق کرتی ہے۔ ان کا بیان تھا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ ”رسول اللہ ﷺ جب سفر کا ارادہ کرتے تو اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ اندازی کرتے، پھر جس کا قرعہ نکلتا وہ آپ ﷺ کے ساتھ جاتیں۔“ وہ فرماتی ہیں کہ ”آپ ﷺ نے کسی غزوہ میں جاتے ہوئے قرعہ اندازی کی تو میرا قرعہ نکل آیا، چنانچہ میں آپ ﷺ کے ساتھ روانہ ہوئی اور (اس وقت) پردے کی آیات نازل ہو چکی تھیں۔“