السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحال التي يختلف فيها حال النساء باب: اس صورت حال کا بیان جس میں عورتوں (بیویوں کی باری) کے احوال مختلف ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14766
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " يُقِيمُ عِنْدَ الْبِكْرِ سَبْعًا ثُمَّ يَقْسِمُ وَإِنْ كَانَتْ ثَيِّبًا أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ يَقْسِمُ ".حافظ ثناء اللہ
قتادہ رحمہ اللہ، سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ کنواری کے پاس سات دن قیام کرتے، پھر باری تقسیم کرتے اور اگر عورت بیوہ ہوتی تو اس کے پاس تین دن قیام کرنے کے بعد باری تقسیم کر دیتےے۔