السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحال التي يختلف فيها حال النساء باب: اس صورت حال کا بیان جس میں عورتوں (بیویوں کی باری) کے احوال مختلف ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14765
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ بَكْرٍ، نا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: " إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ بِكْرًا فَلَهَا سَبْعٌ ثُمَّ يَقْسِمُ فَإِذَا تَزَوَّجَهَا ثَيِّبًا فَلَهَا ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ ثُمَّ يَقْسِمُ ".حافظ ثناء اللہ
حمید سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ”جب مرد کسی کنواری عورت سے شادی کرلے تو اس کے پاس سات دن قیام کرے، پھر باری تقسیم کرے اور جب بیوہ عورت سے شادی کرے تو اس کے ہاں تین دن قیام کرے، پھر باری تقسیم کرے۔“