السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الحال التي يختلف فيها حال النساء باب: اس صورت حال کا بیان جس میں عورتوں (بیویوں کی باری) کے احوال مختلف ہوتے ہیں۔
حدیث نمبر: 14756
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا مَالِكٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِيُّ، نا الْقَعْنَبِيُّ، نا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ وَأَصْبَحَتْ عِنْدَهُ فَقَالَ لَهَا: " لَيْسَ بِكِ عَلَى أَهْلِكِ هَوَانٌ، إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ عِنْدَكِ وَسَبَّعْتُ عِنْدَهُنَّ، وَإِنْ شِئْتِ ثَلَّثْتُ ثُمَّ دُرْتُ "، قَالَتْ: ثَلِّثْ وَفِي رِوَايَةِ الشَّافِعِيِّ: " ثَلَّثْتُ عِنْدَكِ وَدُرْتُ "، قَالَتْ: ثَلِّثْ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى عَنْ مَالِكٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابوبکر بن عبدالرحمن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور ان کے ہاں صبح کی تو فرمایا: ”تو اپنے گھر والوں کے نزدیک حقیر نہیں، اگر تو چاہے تو میں تیرے پاس سات دن گزاروں گا اور دوسری عورتوں کے پاس بھی، اور اگر تو چاہے تو تین دن کے بعد میں گھوم جاؤں گا۔“ وہ فرماتی ہیں: ”تین دن کریں“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کی روایت میں ہے کہ ”میں تیرے پاس تین دن گزاروں گا، پھر گھوم جاؤں گا۔“ وہ فرمانے لگیں: ”تین دن۔“