السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الرجل يدخل على نسائه نهارا للحاجة لا ليأوي باب: اس بیان میں کہ شوہر دن کے وقت اپنی بیویوں کے پاس کسی ضرورت کے پیشِ نظر جائے نہ کہ وہاں ٹھہرنے کے لیے۔
حدیث نمبر: 14755
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، نا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: " مَا كَانَ أَوْ قَلَّ يَوْمٌ إِلَّا وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَطُوفُ عَلَيْنَا جَمِيعًا فَيُقَبِّلُ وَيَلْمَسُ مَا دُونَ الْوِقَاعِ فَإِذَا جَاءَ إِلَى الَّتِي هُوَ يَوْمُهَا يَبِيتُ عِنْدَهَا ".حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہر دن تمام ازواج مطہرات کے پاس جاتے تو بوس و کنار کرتے، لیکن جماع نہیں۔ پھر جس کی باری ہوتی رات اس کے پاس گزارتے۔