السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الرجل يدخل على نسائه نهارا للحاجة لا ليأوي باب: اس بیان میں کہ شوہر دن کے وقت اپنی بیویوں کے پاس کسی ضرورت کے پیشِ نظر جائے نہ کہ وہاں ٹھہرنے کے لیے۔
حدیث نمبر: 14754
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَا يُفَضِّلُ بَعْضَنَا عَلَى بَعْضٍ فِي مُكْثِهِ عِنْدَنَا وَكَانَ قَلَّ يَوْمٌ إِلَّا وَهُوَ يَطُوفُ عَلَيْنَا فَيَدْنُو مِنْ كُلِّ امْرَأَةٍ مِنْ غَيْرِ مَسِيسٍ حَتَّى يَبْلُغَ الَّتِي هِيَ يَوْمُهَا فَيَبِيتُ عِنْدَهَا " وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.حافظ ثناء اللہ
ہشام بن عروہ رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا: اے بھانجے! رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کسی کو کسی پر باری مقرر کرنے میں فضیلت نہ دیتے تھے اور آپ ﷺ ہر دن ہر بیوی کے پاس بغیر جماع کے جاتے یہاں تک کہ جس کی باری ہوتی رات اس کے پاس گزارتے۔