السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: الرجل يدخل على نسائه نهارا للحاجة لا ليأوي باب: اس بیان میں کہ شوہر دن کے وقت اپنی بیویوں کے پاس کسی ضرورت کے پیشِ نظر جائے نہ کہ وہاں ٹھہرنے کے لیے۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ نا مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بُطْحَانَ، قَالُوا: نا عَفَّانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْبُخَارِيُّ، نا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا: نا عَفَّانُ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أنا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: " شَهِدْتُ وَلِيمَةَ زَيْنَبَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَأُشْبِعَ النَّاسُ خُبْزًا وَلَحْمًا، وَكَانَ يَبْعَثُنِي فَأَدْعُو النَّاسَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَامَ وَتَبِعْتُهُ وَتَخَلَّفَ رَجُلَانِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثَ لَمْ يَخْرُجَا فَجَعَلَ يَمُرُّ بِنِسَائِهِ فَيُسَلِّمُ عَلَى كُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُنَّ سَلَامٌ عَلَيْكُنَّ أَهْلَ الْبَيْتِ كَيْفَ أَنْتُنَّ؟ فَيَقُلْنَ: بِخَيْرٍ يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ وَجَدْتَ أَهْلَكَ؟ فَيَقُولُ: بِخَيْرٍ، فَلَمَّا فَرَغَ رَجَعَ فَرَجَعْتُ مَعَهُ، فَلَمَّا بَلَغَ الْبَابَ إِذَا هُوَ بِالرَّجُلَيْنِ اسْتَأْنَسَ بِهِمَا الْحَدِيثَ، فَلَمَّا رَأَيَاهُ قَدْ رَجَعَ قَامَا فَخَرَجَا، فَوَاللهِ مَا أَدْرِي أَنَا أَخْبَرْتُهُ أَوْ نَزَلَ عَلَيْهِ الْوَحْيُ بِأَنَّهُمَا قَدْ خَرَجَا فَرَجَعَ وَرَجَعْتُ مَعَهُ، ⦗٤٩٠⦘ فَلَمَّا وَضَعَ رِجْلَيْهِ فِي أُسْكُفَّةِ الْبَابِ أَرْخَى الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ وَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ هَذِهِ الْآيَةُ {لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ} [الأحزاب: ٥٣] الْآيَةَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ.ثابت، سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ میں سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کے ولیمہ میں حاضر ہوا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو گوشت اور روٹی سے خوب سیر کیا۔ آپ ﷺ مجھے بھیجتے، میں لوگوں کو بلا کر لاتا۔ جب آدمی فارغ ہوئے تو میں بھی آپ ﷺ کے پیچھے چلا اور دو آدمی وہ بھی باتوں سے مانوس ہو رہے تھے۔ وہ نہ گئے تو آپ ﷺ اپنی عورتوں کے پاس سے گزرے، ان میں سے جس کے پاس سے گزرتے تو اس کو سلام کہتے: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ، كَيْفَ أَنْتُمْ؟» ”اے گھر والو! تم پر سلامتی ہو، تم کیسی ہو؟“ وہ کہتیں: اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم خیریت سے ہیں، آپ ﷺ نے اپنے اہل کو کیسا پایا؟ جب آپ ﷺ فارغ ہو کر لوٹے تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ پلٹتا۔ جب آپ ﷺ دروازے پر پہنچے تو اچانک وہ دو آدمی جو باتوں سے مانوس ہو رہے تھے، جب انھوں نے نبی ﷺ کو آتے دیکھا تو وہ چلے گئے۔ اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میں نے آپ ﷺ کو خبر دی یا آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی کہ وہ دونوں چلے گئے۔ جب میں اور آپ ﷺ لوٹے تو آپ ﷺ نے پاؤں دروازے کی دہلیز پر رکھے اور میرے اور اپنے درمیان پردہ لٹکا دیا تو یہ آیت نازل ہوئی: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ﴾ [سورة الأحزاب: 53]۔