السنن الكبرى للبيهقي
كتاب القسم والنشوز— باری مقرر کرنے کا بیان
باب: ما جاء في بيان حقه عليها باب: عورت پر شوہر کے حق کے بیان میں وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأُمَوِيُّ، وَأَبُو عَبْدِ اللهِ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَكِيمِيُّ بِبَغْدَادَ قَالَا: نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، نا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّهْرَانِيُّ، نا شُعَيْبُ بْنُ زُرَيْقٍ الطَّائِفِيُّ، نا عَطَاءٌ الْخُرَاسَانِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ السَّكْسَكِيِّ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تَأْذَنَ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تَخْرُجُ وَهُوَ كَارِهٌ، وَلَا تُطِيعُ فِيهِ أَحَدًا، وَلَا تُخَشِّنُ بِصَدْرِهِ، وَلَا تَعْتَزِلُ فِرَاشَهُ، وَلَا تَصْرُمُهُ فَإِنْ كَانَ هُوَ أَظْلَمَ مِنْهَا فَلْتَأْتِهِ حَتَّى تُرْضِيَهُ، فَإِنْ هُوَ قَبِلَ مِنْهَا فَبِهَا وَنِعْمَتْ وَقَبِلَ اللهُ عُذْرَهَا، وَأَفْلَجَ حُجَّتَهَا، وَلَا إِثْمَ عَلَيْهَا، وَإِنْ هُوَ أَبَى أَنْ يَرْضَى عَنْهَا فَقَدْ أَبَلَغَتْ عِنْدَ اللهِ عُذْرَهَا ".حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”ایسی عورت جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ کسی کو اپنے خاوند کے گھر آنے کی اجازت دے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو، اور نہ ہی وہ گھر سے اس کی ناراضگی کی صورت میں نکلے، اور نہ ہی کسی دوسرے کی پیروی کرے، اور نہ ہی اس کے دل میں سختی پیدا کرے، اور نہ ہی اس کے بستر سے الگ ہو کر اس کو چھوڑ دے۔ اگرچہ وہ انسان ظالم ہی کیوں نہ ہو، تب بھی اسے راضی کرے۔ اگر وہ اس کی معذرت قبول کرتا ہے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے اور اللہ رب العزت بھی اس کا عذر قبول کریں گے اور اس کی دلیل کو مؤثر بنائیں گے اور اس کے ذمے کوئی گناہ نہ ہوگا۔ اگر وہ راضی ہونے سے انکار کر دے تو اس نے اپنا عذر اللہ کے ہاں پہنچا دیا۔“