حدیث نمبر: 14714
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ الْقَطَّانُ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ رَزِينٍ السُّلَمِيُّ، نا بِشْرُ بْنُ أَبِي الْأَزْهَرِ، نا هُشَيْمٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ؟ قَالَ: " أَنْ لَا تَمْنَعَ نَفْسَهَا مِنْهُ وَلَوْ عَلَى قَتَبٍ فَإِذَا فَعَلَتْ كَانَ عَلَيْهَا إِثْمٌ " ثُمَّ قَالَتْ: مَا حَقُّ الزَّوْجِ عَلَى زَوْجَتِهِ؟ قَالَ: " أَنْ لَا تُعْطِيَ شَيْئًا مِنْ بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ " تَفَرَّدَ بِهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سَلَمٍ فَإِنْ كَانَ حَفِظَهُمَا فَوَجْهُ الْحَدِيثِ الثَّابِتِ قَبْلَهُمَا فِي إِبَاحَةِ الْإِنْفَاقِ مِنْ بَيْتِهِ أَنْ تُنْفِقَ مِمَّا أَعْطَاهَا الزَّوْجُ فِي قُوتِهَا وَبِذَلِكَ أَفْتَى أَبُو هُرَيْرَةَ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کے پاس ایک عورت آئی اور عرض کیا: ”اے اللہ کے رسول! خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے؟“ فرمایا: ”بیوی اپنے نفس کو اس سے نہ روکے اگرچہ سواری پر ہی کیوں نہ ہو، اگر ایسا کرے گی تو گناہ گار ہوگی۔“ عرض کرنے لگی: ”خاوند کا بیوی پر کیا حق ہے؟“ فرمایا: ”گھر سے کوئی چیز اس کی اجازت کے بغیر نہ دے۔“
نوٹ: بیوی اپنے خرچہ سے دے سکتی ہے، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بھی یہی فتویٰ ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب القسم والنشوز / حدیث: 14714
درجۂ حدیث محدثین: ضعيف
تخریج حدیث «ضعيف۔ تقدم قبله»