السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إظهار النكاح وإباحة الضرب بالدف عليه وما لا يستنكر من القول باب: نکاح کا اعلان کرنے اور اس موقع پر دف بجانے کے مباح ہونے کا بیان جو مستحب ہے، اور ان باتوں (اشعار) کا بیان جو قابلِ اعتراض نہیں ہیں۔
حدیث نمبر: 14691
أَخْبَرَنَا أَبُو مَنْصُورٍ عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، مِنْ أَصْلِهِ نا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ رَجَاءٍ الْبَزَّارِيُّ أنا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو كَامِلٍ الْفُضَيْلُ بْنُ الْحُسَيْنِ، نا أَبُو عَوَانَةَ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّهَا أَنْكَحَتْ ذَا قَرَابَةٍ لَهَا مِنَ الْأَنْصَارِ فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَهْدَيْتُمُ الْفَتَاةَ؟ " قَالَتْ: نَعَمْ قَالَ: " فَأَرْسَلْتُمْ مَنْ تُغَنِّي؟ " قَالَتْ: لَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ الْأَنْصَارَ قَوْمٌ فِيهِمْ غَزَلٌ فَلَوْ أَرْسَلْتُمْ مَنْ يَقُولُ: أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ فَحَيَّانَا وَحَيَّاكُمْ ".حافظ ثناء اللہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ انہوں نے اپنی قریبی رشتہ دار عورت کا نکاح کروایا۔ نبی ﷺ تشریف لائے تو دریافت فرمایا: ”کیا تم نے بچی کو کچھ تحفہ دیا ہے؟“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ہاں۔ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیا اس کے ساتھ تم نے کسی گانے والی کو بھیجا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: نہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”انصاری لوگ گانے کو پسند کرتے ہیں۔ اگر تم بھیج دیتے جو یہ کہتا: «أَتَيْنَاكُمْ أَتَيْنَاكُمْ، فَحَيُّونَا نُحَيِّكُمْ» ”ہم تمہارے پاس آئے، ہم تمہارے پاس آئے، ہمیں بھی خوش آمدید اور تمہیں بھی۔““