حدیث نمبر: 14673
قَدْ رُوِّينَا فِي حَدِيثِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَ عَلَى أَبِيهِ وَقَالَ: ادْعُ لَنَا، فَقَالَ: " اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ ".
حافظ ثناء اللہ

ہمیں سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں نبی کریم ﷺ سے روایت پہنچی ہے کہ جب آپ ﷺ ان کے والد کے ہاں (مہمان بن کر) تشریف لائے اور انہوں نے عرض کیا: ”ہمارے لیے دعا فرمائیے۔“
تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے اللہ! تو نے انہیں جو رزق عطا کیا ہے اس میں ان کے لیے برکت عطا فرما، اور ان کی مغفرت فرما اور ان پر رحم فرما۔“

وَأَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ بِشْرَانَ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَأْذَنَ عَلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ وَرَحْمَةُ ⦗٤٦٨⦘ اللهِ قَالَ سَعْدٌ: وَعَلَيْكَ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَلَمْ يُسْمِعِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَلَّمَ ثَلَاثًا وَرَدَّ عَلَيْهِ سَعْدٌ ثَلَاثًا، وَلَمْ يُسْمِعْهُ فَرَجَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاتَّبَعَهُ سَعْدٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بِأَبِي أَنْتَ مَا سَلَّمْتَ تَسْلِيمَةً إِلَّا وَهِيَ بِأُذُنِي، وَلَقَدْ رَدَدْتُ عَلَيْكَ وَلَمْ أُسْمِعْكَ أَحْبَبْتُ أَنْ أَسْتَكْثِرَ مِنْ سَلَامِكَ، وَمِنَ الْبَرَكَةِ ثُمَّ دَخَلُوا الْبَيْتَ، فَقَرَّبَ لَهُ زَبِيبًا فَأَكَلَ نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ: " أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ ".
حافظ ثناء اللہ

سیدنا انس رضی اللہ عنہ یا کوئی دوسرے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہما کے پاس آنے کی اجازت طلب کی تو فرمایا: ”«السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”تم پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“” تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہما نے کہا: «وَعَلَيْكُمُ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ» ”اور تم پر بھی سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں“ لیکن نبی ﷺ کو سنایا نہیں۔ آپ ﷺ نے تین مرتبہ سلام کہا اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہما نے تین مرتبہ ہی جواب دیا، لیکن نبی ﷺ نے سنا نہیں۔ نبی ﷺ واپس چلے گئے تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہما بھی پیچھے چلے اور کہا: میرے والد آپ پر قربان! آپ ﷺ نے جب بھی سلام کیا، میرے ان کانوں نے سنا اور میں نے آپ ﷺ کو جواب بھی دیا۔ لیکن آپ ﷺ کو سنوایا نہیں؛ کیونکہ میں پسند کرتا تھا کہ آپ ﷺ سے سلامتی اور برکت کی دعا کی کثرت چاہتا تھا۔ پھر وہ گھر میں داخل ہوئے اور سیدنا سعد رضی اللہ عنہما نے آپ ﷺ کے سامنے منقہ رکھا۔ نبی ﷺ جب کھا کر فارغ ہوئے تو فرمایا: ”«أَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ، وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ، وَأَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ» ”نیک لوگوں نے تمہارا کھانا کھایا اور فرشتوں نے تمہارے لیے دعا کی اور روزے داروں نے تمہارے پاس افطار کیا۔“”

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14673
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»