السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: اختناث الأسقية وما يكره من ذلك باب: مشکیزوں کے منہ موڑ کر پینے اور اس کی کراہت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14663
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، نا يَحْيَى بْنُ الرَّبِيعِ الْمَكِّيُّ، نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أُخْبِرُكُمْ بِأَشْيَاءَ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، " لَا يَشْرَبْ أَحَدُكُمْ مِنْ فِيِّ السِّقَاءِ ".حافظ ثناء اللہ
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تمہیں رسول اللہ ﷺ سے کچھ اشیاء کی خبر دیتا ہوں کہ: ”تم میں سے کوئی مشکیزے کے منہ کو منہ لگا کر پانی نہ پیے۔“