السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: لا يتحرج من طعام أحله الله تعالى باب: اس بیان میں کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اس کھانے سے پرہیز نہ کیا جائے۔
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْزُوقٍ، نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ الْقَيْسِيُّ، نا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ مُرِّيِّ بْنِ قَطَرِيٍّ، رَجُلٍ مِنْ طَيٍّ مِنْ بَنِي ثُعَلٍ عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ " يَعْنِي الذِّكْرَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ طَعَامٍ لَا أَدَعُهُ إِلَّا تَحَرُّجًا قَالَ: " فَلَا تَحَرَّجْ مِنْ شَيْءٍ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ " قَالَ: قُلْتُ ⦗٤٥٦⦘ أُرْسِلُ كَلْبِي فَيَأْخُذُ الصَّيْدَ فَلَا يَكُونُ مَعِي مَا أُذَكِّيهِ إِلَّا الْمَرْوَةَ وَالْعَصَا فَقَالَ: " أَمِرَّ الدَّمَ بِمَا شِئْتَ وَاذْكُرِ اسْمَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ ".سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ! میرا باپ صلہ رحمی کرتا تھا اور فلاں فلاں کام، لیکن وہ جاہلیت میں فوت ہو گیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”تیرے باپ نے جو ارادہ کیا پا لیا، یعنی شہرت۔“ وہ کہتے ہیں: میں تو کسی حرج کی وجہ سے کھانے کو چھوڑنے کے متعلق سوال کرنا چاہتا ہوں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم کسی چیز میں حرج محسوس نہ کرو، وگرنہ تم نصرانیت کی مشابہت اختیار کرنے والے ہو۔“ وہ کہنے لگے: میں اپنے کتے کو چھوڑتا ہوں وہ شکار پکڑ کر لاتا ہے تو میں اسے پتھر یا لاٹھی سے ذبح کر لیتا ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”خون بہاؤ جس سے چاہو اور اللہ کا نام لو۔“