السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: لا يتحرج من طعام أحله الله تعالى باب: اس بیان میں کہ جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اس کھانے سے پرہیز نہ کیا جائے۔
حدیث نمبر: 14622
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، نا زُهَيْرٌ، نا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ، نا قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: إِنَّ مِنَ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ فَقَالَ: " لَا يَخْتَلِجَنَّ فِي نَفْسِكَ شَيْءٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ "، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ أَيْضًا عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا قبیصہ بن ہلب رضی اللہ عنہ اپنے والد (سیدنا ہلب رضی اللہ عنہ) سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، آپ ﷺ سے ایک آدمی نے سوال کیا کہ میں بعض کھانوں میں حرج محسوس کرتا ہوں تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تمہارے دل میں کوئی چیز خلش پیدا نہ کرے، تو نے اس میں عیسائیت کی مشابہت اختیار کی ہے۔“