السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: التسمية على الطعام باب: کھانے پر بسم اللہ پڑھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14607
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ مَنْصُورٍ الْهَرَوِيُّ، نا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ نا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا دَخَلَ الرَّجُلُ بَيْتَهُ فَذَكَرَ اللهَ عِنْدَ دُخُولِهِ وَعِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ الشَّيْطَانُ: لَا مَبِيتَ لَكُمْ وَلَا عَشَاءَ، وَإِذَا دَخَلَ فَلَمْ يَذْكُرِ اللهَ عِنْدَ دُخُولِهِ، قَالَ الشَّيْطَانُ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ، فَإِذَا لَمْ يَذْكُرِ اللهَ عِنْدَ طَعَامِهِ قَالَ: أَدْرَكْتُمُ الْمَبِيتَ وَالْعَشَاءَ " رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُثَنَّى عَنْ أَبِي عَاصِمٍ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے نبی ﷺ سے سنا، آپ ﷺ فرما رہے تھے: ”جب کوئی شخص اپنے گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر کرتا ہے اور کھانے کے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ پڑھتا ہے تو شیطان کہتا ہے کہ تمہارے لیے نہ رات گزارنے کی جگہ ہے اور نہ ہی شام کا کھانا۔ جب گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ کا ذکر نہیں کرتا تو شیطان کہتا ہے: تم نے رات گزارنے کی جگہ پا لی، اور جب کھانے کے وقت «بِسْمِ اللّٰهِ» ”اللہ کے نام سے“ نہیں پڑھتا تو شیطان کہتا ہے کہ تم کو رات گزارنے کی جگہ اور شام کا کھانا بھی مل گیا۔“