السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: غسل اليد قبل الطعام وبعده باب: کھانے سے پہلے اور اس کے بعد ہاتھ دھونے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، نا زُهَيْرٌ، نا سُهَيْلٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَامَ وَفِي يَدِهِ غَمَرٌ وَلَمْ يَغْسِلْهُ فَأَصَابَهُ شَيْءٌ فَلَا يَلُومَنَّ إِلَّا نَفْسَهُ "، ⦗٤٥١⦘ وَحَدِيثُ سُوَيْدِ بْنِ النُّعْمَانِ فِي مَضْمَضَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَضْمَضَتِهِمْ بَعْدَ أَكْلِهِمُ السَّوِيقَ دَلِيلٌ فِي هَذَا الْبَابِ، وَقَدْ مَضَى فِي كِتَابِ الطَّهَارَةِ، فَالْحَدِيثُ فِي غَسْلِ الْيَدِ بَعْدَ الطَّعَامِ حَسَنٌ، وَهُوَ قَبْلَ الطَّعَامِ ضَعِيفٌ، وَفِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَى الْخَلَاءَ ثُمَّ رَجَعَ فَأُتِيَ بِطَعَامٍ فَقِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَلَا تَتَوَضَّأْ؟ فَقَالَ: " لَمْ أُصَلِّ فَأَتَوَضَّأَ ".سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو سو گیا اور اس کے ہاتھ میں چکناہٹ ہو، اس کو دھویا نہیں، پھر کسی چیز نے اسے ڈس لیا تو وہ اپنے نفس ہی کو ملامت کرے۔“
(ب) سوید بن نعمان کی حدیث ہے کہ نبی ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم ستو کھانے کے بعد کلی کرتے تھے اور کتاب الطہارۃ میں حدیث، کھانے کے بعد ہاتھ دھونے کے بارے میں حسن ہے اور کھانے سے پہلے ہاتھوں کا دھونا، یہ ضعیف حدیث ہے۔
(ج) سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ بیت الخلاء آئے اور واپس پلٹے تو کھانا لایا گیا تو کہا گیا: ”کیا آپ اللہ کے رسول وضو نہ فرمائیں گے؟“ آپ ﷺ نے پوچھا: ”کیوں؟ میں نماز پڑھوں گا تو وضو کرلوں گا۔“