السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إجابة من دعاه إلى طعام وإن لم يكن له سبب باب: جو شخص کھانے کی دعوت دے اس کی دعوت قبول کرنے کے مستحب ہونے کا بیان اگرچہ اس دعوت کا کوئی (خاص) سبب نہ ہو۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْمَحْبُوبِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، نا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ بُسْرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " مَرَّ بِأَبِيهِ وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ بَيْضَاءَ فَأَتَاهُ فَأَخَذَ بِلِجَامِهَا فَقَالَ: انْزِلْ عَلَيَّ قَالَ: فَنَزَلَ عَلَيْنَا فَأَتَى بِتَمْرٍ وَسَوِيقٍ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ ثُمَّ يَضَعُ النوَى عَلَى ظَهْرِ السَّبَّابَةِ أَوِ الْوُسْطَى أَوْ عَلَيْهِمَا جَمِيعًا ثُمَّ يَرْمِي بِهِ قَالَ: وَصُنِعَ لَهُ طَعَامٌ فَجَعَلَ يَأْكُلُ مِنْهُ ثُمَّ أَتَاهُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ أَوْ سَوِيقٍ ⦗٤٤٨⦘ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ أَعْطَاهُ الَّذِي عَنْ يَمِينِهِ فَأَرَادَ أَنْ يَسِيرَ أَوْ يَرْتَحِلَ فَقَالَ ادْعُ لَنَا فَقَالَ: " اللهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ "، أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ وَابْنِ أَبِي عَدِيٍّ وَيَحْيَى بْنِ حَمَّادٍ عَنْ شُعْبَةَ.سیدنا عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے والد کے پاس سے گزرے اور آپ ﷺ اپنے سفید خچر پر سوار تھے۔ انہوں نے آکر آپ ﷺ کے خچر کی لگام کو پکڑ لیا اور کہا: ”آپ ﷺ ہمارے پاس اتریں۔“ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ہمارے پاس پڑاؤ کیا تو کھجور اور ستو لائے گئے۔ آپ ﷺ کھجور کھا رہے تھے اور گٹھلی کو شہادت یا درمیان والی انگلی کے اوپر یا دونوں کے اوپر رکھ کر پھینک دیتے۔ راوی کہتے ہیں تو انہوں نے آپ ﷺ کے لیے کھانا بنایا، آپ ﷺ نے کھایا۔ پھر اس کے بعد دودھ یا ستو کا پیالہ لایا گیا۔ آپ ﷺ نے پیا، پھر اس کو دیا جو آپ ﷺ کے دائیں جانب تھا۔ آپ ﷺ نے چلنے یا کوچ کا ارادہ کیا تو انہوں نے کہا: ”ہمارے لیے دعا کیجیے۔“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ فِيمَا رَزَقْتَهُمْ، وَاغْفِرْ لَهُمْ وَارْحَمْهُمْ» ”اے اللہ! ان کے رزق میں برکت دے اور ان کو معاف کر اور ان پر رحم فرما۔“