السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يستحب من إجابة من دعاه إلى طعام وإن لم يكن له سبب باب: جو شخص کھانے کی دعوت دے اس کی دعوت قبول کرنے کے مستحب ہونے کا بیان اگرچہ اس دعوت کا کوئی (خاص) سبب نہ ہو۔
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ صَخْرٍ الدَّارِمِيُّ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وَهَذَا حَدِيثُهُ قَالَا: نا أَبُو عَاصِمٍ، نا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، نا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، نا جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْخَنْدَقِ أَصَابَ النَّاسُ خَمَصًا شَدِيدًا قَالَ: فَقُلْتُ لِأَهْلِي هَلْ عِنْدَكِ شَيْءٌ حَتَّى نَدْعُوَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: مَا عِنْدَنَا إِلَّا صَاعٌ مِنْ شَعِيرٍ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهَا: اطْحَنِيهِ، قَالَ: وَذَبَحْتُ عَنَاقًا عِنْدَنَا قَالَ: فَفَرَغْتُ إِلَى فَرَاغِي فَانْطَلَقْتُ أَدْعُو النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّ عِنْدَنَا صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ وَعِنْدَنَا عَنَاقٌ أَوْ شَاةٌ فَذَبَحْنَاهَا قَالَ: فَصَاحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَصْحَابِهِ: " قُومُوا فَقَدْ صَنَعَ جَابِرٌ سُورًا " قَالَ: فَانْطَلَقْتُ أَمَامَ الْقَوْمِ فَأَتَيْتُ امْرَأَتِي فَقَالَتْ: بِكَ وَبِكَ لَا تَفْضَحْنِي الْيَوْمَ مِنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَدَخَلَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " ضَعُوا بُرْمَتَكُمْ " قَالَ: فَوَضَعُوا فِيهَا اللَّحْمَ فَبَسَقَ فِيهَا وَبَارَكَ ثُمَّ قَالَ: انْظُرُوا خَابِزَةً تَخْبِزُ لَكُمْ قَالَ: فَجَعَلَتِ الْخَابِزَةُ تَخْبِزُ، قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " ادْخُلُوا عَشَرَةً عَشَرَةً " قَالَ: فَجَعَلَ يَغْرِفُ لَهُمْ فَيَأْكُلُونَ حَتَّى أَتَى عَلَى آخِرِهِمْ وَإِنَّا لَنَقْدَحُ فِي بُرْمَتِنَا وَإِنَّ عَجِينَنَا لَيُخْبَزُ كَمَا هُوَ وَإِنَّ قِدْرَنَا لَتَغِطُّ كَمَا هِيَ.سیدنا جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب خندق کے دن لوگوں کو سخت بھوک لگی تو میں نے اپنی بیوی سے کہا: کیا تیرے پاس کوئی چیز ہے کہ نبی ﷺ کو دعوت دوں؟ تو کہنے لگی کہ ہمارے پاس صرف ایک صاع جو کا ہے۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس سے کہا: تو اس کو پیس لے اور میں نے بکری کا بچہ جو ہمارے پاس تھا ذبح کر ڈالا۔ کہتے ہیں: میرے فارغ ہونے تک وہ بھی فارغ ہو گئی۔ میں نے نبی ﷺ کو دعوت دے دی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہمارے پاس جَو کا ایک صاع اور بکری کا بچہ تھا جو ذبح کر ڈالا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی ﷺ نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں اعلان کروا دیا: ”چلو! جابر نے دعوت پکائی ہے۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں لوگوں کے آگے آگے چلتا ہوا اپنی بیوی کے پاس آیا تو وہ کہنے لگی کہ آج ہمیں رسول اللہ ﷺ سے رسوا نہ کرا دینا۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ﷺ تشریف لائے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اپنی ہنڈیا رکھو۔“ کہتے ہیں: انہوں نے اس میں گوشت رکھ دیا تو آپ ﷺ نے اس میں اپنا لعابِ دہن ڈالا اور برکت کی دعا کی، پھر فرمایا: ”روٹی پکانے والیوں سے کہو کہ وہ روٹی پکائیں۔“ انہوں نے روٹی پکانی شروع کر دی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”دس دس آدمی آتے جاؤ۔“ آپ ﷺ ان کو (کھانا) ڈال کر دے رہے تھے۔ وہ کھاتے گئے یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی آیا اور ہماری ہنڈیا اور آٹا ویسے کا ویسا ہی تھا۔