السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما جاء في تستير المنازل باب: گھروں میں پردے لٹکانے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ ⦗٤٤٤⦘ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، نا عَفَّانُ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، نا أَبُو جَعْفَرٍ الْخَطْمِيُّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ قَالَ: دُعِيَ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ إِلَى طَعَامٍ، فَلَمَّا جَاءَ رَأَى الْبَيْتَ مُنَجَّدًا فَقَعَدَ خَارِجًا وَبَكَى قَالَ: فَقِيلَ لَهُ مَا يُبْكِيكَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا شَيَّعَ جَيْشًا فَبَلَغَ عُقْبَةَ الْوَدَاعِ قَالَ: " أَسْتَوْدِعُ اللهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَاتِكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ " قَالَ: فَرَأَى رَجُلًا ذَاتَ يَوْمٍ قَدْ رَقَعَ بُرْدَةً لَهُ بِقِطْعَةٍ قَالَ: فَاسْتَقْبَلَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَقَالَ هَكَذَا وَمَدَّ يَدَيْهِ وَمَدَّ عَفَّانُ يَدَيْهِ وَقَالَ " تَطَالَعَتْ عَلَيْكُمُ الدُّنْيَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ أَيْ أَقْبَلَتْ حَتَّى ظَنَنَّا أَنْ يَقَعَ عَلَيْنَا ثُمَّ قَالَ: أَنْتُمُ الْيَوْمَ خَيْرٌ أَمْ إِذَا غَدَتْ عَلَيْكُمْ قَصْعَةٌ وَرَاحَتْ أُخْرَى وَيَغْدُو أَحَدُكُمْ فِي حُلَّةٍ وَيَرُوحُ فِي أُخْرَى وَتَسْتُرُونَ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ، فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَزِيدَ: أَفَلَا أَبْكِي وَقَدْ بَقِيتُ حَتَّى تَسْتُرُونَ بُيُوتَكُمْ كَمَا تُسْتَرُ الْكَعْبَةُ.محمد بن کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کو کھانے کی دعوت دی گئی۔ جب انہوں نے گھر کی زیب و زینت دیکھی تو باہر بیٹھ کر رونے لگے۔ ان سے کہا گیا: آپ کو کس چیز نے رلا دیا؟ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب لشکر ترتیب دیتے اور انہیں الوداع کہنے کے لیے پہنچتے تو فرماتے: «أَسْتَوْدِعُ اللَّهَ دِينَكُمْ وَأَمَانَتَكُمْ وَخَوَاتِيمَ أَعْمَالِكُمْ» ”میں تمہارا دین، تمہاری امانتیں اور تمہارے اعمال کا اختتام اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے ایک دن ایک شخص کی چادر کو پیوند لگے ہوئے دیکھا تو سورج کے طلوع ہونے کی طرف متوجہ ہوئے اور اس طرح اپنے ہاتھ پھیلائے کہ عفان نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دکھائے اور فرمانے لگے: ”تمہیں دنیا وافر مل گئی ہے“، تین مرتبہ فرمایا یہاں تک کہ ہم نے گمان کیا کہ وہ ہمارے اوپر گر پڑیں گے۔ پھر فرمانے لگے: ”تم آج بہتر ہو یا جب صبح کے وقت تمہارے سامنے ایک پلیٹ ہو اور شام کے وقت دوسری، اور صبح تم ایک جوڑے میں کرو اور شام دوسرے میں، اور تم اپنے گھروں کو پردوں سے اس طرح ڈھانپو جیسے بیت اللہ کو ڈھانپا جاتا ہے؟“ اور عبداللہ بن یزید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ کیا میں نہ روؤں کہ میں باقی رہا یہاں تک کہ تم نے اپنے گھروں کو پردوں سے چھپا لیا ہے جیسا کہ بیت اللہ کو چھپایا جاتا تھا۔