السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما جاء في تستير المنازل باب: گھروں میں پردے لٹکانے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ سَهْلٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ أَبِي الْحُبَابِ مَوْلَى بَنِي النَّجَّارِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ " قَالَ: فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقُلْتُ لَهَا: إِنَّ هَذَا يُخْبِرُنِي أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَمَاثِيلُ "، فَهَلْ سَمِعْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ ذَلِكَ؟ قَالَتْ: لَا وَلَكِنْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا رَأَيْتُهُ فَعَلَ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ فِي غَزَاتِهِ فَأَخَذْتُ نَمَطًا فَسَتَرْتُهُ عَلَى الْبَابِ، فَلَمَّا قَدِمَ فَرَأَى النَّمَطَ عَرَفْتُ الْكَرَاهِيَةَ فِي وَجْهِهِ فَجَذَبَهُ حَتَّى هَتَكَهُ وَقَطَّعَهُ وَقَالَ: " إِنَّ اللهَ لَمْ يَأْمُرْنَا أَنْ نَكْسُوَ الْحِجَارَةَ وَالطِّينَ " قَالَتْ: فَقَطَعْنَا مِنْهُ وِسَادَتَيْنِ وَحَشَوْتُهُمَا لِيفًا فَلَمْ يَعِبْ ذَلِكَ عَلَيَّ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، وَرَوَاهُ خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ عَنْ سُهَيْلٍ فَقَالَ فِي الْحَدِيثِ: الْحِجَارَةُ وَاللَّبِنُ، وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ تَدُلُّ عَلَى كَرَاهِيَةِ كِسْوَةِ الْجِدَارِ وَإِنْ كَانَ سَبَبُ اللَّفْظِ فِيمَا رُوِّينَا مِنْ طُرُقِ هَذَا الْحَدِيثِ يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْكَرَاهِيَةَ كَانَتْ لِمَا فِيهِ مِنَ التَّمَاثِيلِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.سیدنا ابوطلحہ انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا: ”جس گھر میں کتا یا تصویر ہو وہاں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ وہ کہتے ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آیا تو ان سے کہا کہ انہوں نے مجھے بتایا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس گھر میں کتا اور تصاویر ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے۔“ میں نے کہا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو یہ ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ وہ فرماتی ہیں: لیکن میں تمہیں وہ بیان کرتی ہوں جو میں نے آپ ﷺ کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ رسول اللہ ﷺ ایک غزوہ میں تشریف لے گئے تو میں نے ایک پردہ لے کر دروازے پر ڈال دیا۔ جب آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو پردے کو دیکھا، میں نے آپ ﷺ کے چہرے سے کراہت کو محسوس کیا تو آپ ﷺ نے اس پردے کو پھاڑ یا کاٹ دیا اور فرمایا: ”اللہ رب العزت نے ہمیں پتھروں اور مٹی کو پہنانے سے منع کیا ہے۔“ فرماتی ہیں: ہم نے اس پردے کے دو تکیے بنا لیے اور ان کو کھجور کے پتوں سے بھر لیا تو آپ ﷺ نے ہمارے اوپر عیب نہیں لگایا۔ سہل رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ پتھر اور اینٹوں کے لفظ آتے ہیں اور یہ دلالت کرتے ہیں دیواروں پر پردے ڈالنے کی کراہت پر، اگرچہ دوسری حدیث میں کراہت تصاویر کے بارے میں ہے۔