السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: الرخصة فيما يوطأ من الصور أو يقطع رءوسها وفي صور غير ذوات الأرواح من الأشجار وغيرها باب: ان تصویروں کے بارے میں رخصت کا بیان جنہیں روندا جاتا ہو یا ان کے سر کاٹ دیے گئے ہوں، اور ان چیزوں کی تصویروں کی رخصت جو جاندار نہیں ہیں جیسے درخت وغیرہ۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ فَرَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَ إِسْتَبْرَقٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا ⦗٤٤٢⦘ عَبَّاسٍ مَا هَذَا الثَّوْبُ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: الْإِسْتَبْرَقُ قَالَ: إِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لِمَنْ يَتَكَبَّرُ فِيهِ، قَالَ: مَا هَذِهِ التَّصَاوِيرُ فِي الْكَانُونِ؟ فَقَالَ: لَا جَرَمَ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ أُحَرِّقُهَا بِالنَّارِ؟ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: انْزِعُوا هَذَا الثَّوْبَ عَنِّي وَاقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ الَّتِي فِي الْكَانُونِ فَقَطَعَهَا.حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بیمارپرسی کے لیے گئے تو ان پر مزین قسم کا لباس دیکھا یعنی ریشم کا، تو کہنے لگے: ”اے ابن عباس! یہ کیا کپڑا ہے؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”وہ کیا ہے؟“ فرمایا: ”ریشم۔“ فرمانے لگے: ”یہ تو صرف تکبر کرنے والے کے لیے ناپسندیدہ ہے۔“ کہنے لگے: ”یہ انگیٹھی پر کیسی تصاویر ہیں؟“ فرمانے لگے: ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں انہیں آگ سے کیسے جلا رہا ہوں؟“ جب مسور رضی اللہ عنہ چلے گئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”اس کپڑے کو مجھ سے اتار دو اور انگیٹھی پر موجود ان تصاویر کے سر کاٹ دو۔“ تو انہوں نے کاٹ ڈالے۔