السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: الرخصة فيما يوطأ من الصور أو يقطع رءوسها وفي صور غير ذوات الأرواح من الأشجار وغيرها باب: ان تصویروں کے بارے میں رخصت کا بیان جنہیں روندا جاتا ہو یا ان کے سر کاٹ دیے گئے ہوں، اور ان چیزوں کی تصویروں کی رخصت جو جاندار نہیں ہیں جیسے درخت وغیرہ۔
حدیث نمبر: 14581
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ: " كَانُوا يَكْرَهُونَ مَا نُصِبَ مِنَ التَّمَاثِيلِ نَصْبًا وَلَا يَرَوْنَ بِمَا وَطِئَتْهُ الْأَقْدَامُ بَأْسًا ".حافظ ثناء اللہ
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ لٹکائی گئی تصاویر کو ناپسند کرتے تھے، لیکن جو پاؤں میں روندی جائیں ان میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے۔