السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: من استحب الفطر إن كان صومه غير واجب باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے نفلی روزہ ہونے کی صورت میں روزہ توڑ دینے کو مستحب قرار دیا۔
حدیث نمبر: 14538
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا أَبُو عُمَيْرٍ، ثنا ضَمْرَةُ، عَنْ بِلَالِ بْنِ كَعْبٍ الْعَكِّيِّ قَالَ: زُرْنَا يَحْيَى بْنَ حَسَّانَ الْبَكْرِيَّ مِنْ عَسْقَلَانَ إِلَى سَنَاجِيَةَ أَنَا وَابْنُ قُرَيْرٍ وَابْنُ أَدْهَمَ وَمُوسَى بْنُ يَسَارٍ فَأَتَانَا بِطَعَامٍ فَأَمْسَكَ مُوسَى يَدَهُ، فَقَالَ لَهُ يَحْيَى: " كُلْ فَقَدْ أَمَّنَا رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ عِشْرِينَ سَنَةً يُكْنَى بِأَبِي قِرْصَافَةَ فَكَانَ يَصُومُ يَوْمًا وَيُفْطِرُ يَوْمًا فَوُلِدَ لِي غُلَامٌ فَأَوْلَمْتُ عَلَيْهِ " فَدَعَوْتُهُ فِي الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَصُومُ فِيهِ فَأَفْطَرَ " قَالَ: فَمَدَّ مُوسَى يَدَهُ فَأَكَلَ، وَقَامَ ابْنُ أَدْهَمَ إِلَى الْمَسْجِدِ يَكْنُسُهُ بِرِدَائِهِ.حافظ ثناء اللہ
یحییٰ بن حسان بکری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں اور ابن قریر، ابن ادہم اور موسیٰ بن یسار تھے، ہمارے پاس کھانا لایا گیا تو موسیٰ بن یسار نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ یحییٰ نے کہا: کھاؤ۔ ابو قرصافہ رضی اللہ عنہ جو صحابی تھے انہوں نے بیس برس اس مسجد میں ہماری امامت کروائی، وہ ایک دن روزہ رکھتے اور ایک دن افطار کرتے تھے۔ میرے ہاں بچہ پیدا ہوا تو میں نے دعوت دی تو وہ اس دن روزے سے تھے۔ انہوں نے افطار کر دیا، کہتے ہیں: تو موسیٰ نے اپنا ہاتھ پھیلایا اور کھایا اور ابن ادہم مسجد کو اپنی چادر سے صاف کر رہے تھے۔