السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: المتعة باب: متعہ (مطلقہ کو دیا جانے والا تحفہ) کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ الْبَيْهَقِيُّ صَاحِبُ الْمَدْرَسَةِ بِنَيْسَابُورَ، أنبأ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقَرْمِيسِيُّ بِهَا ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِيَادٍ الطَّيَالِسِيُّ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ: كَانَتِ الْخَثْعَمِيَّةُ تَحْتَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَلَمَّا أَنْ قُتِلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بُويِعَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ دَخَلَ عَلَيْهَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، فَقَالَتْ لَهُ: لِتَهْنِكَ الْخِلَافَةُ، فَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ: " أَظْهَرْتِ الشَّمَاتَةَ بِقَتْلِ عَلِيٍّ أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا "، فَتَلَفَّفَتْ فِي ثَوْبِهَا وَقَالَتْ: وَاللهِ مَا أَرَدْتُ هَذَا فَمَكَثَتْ حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا وَتَحَوَّلَتْ فَبَعَثَ إِلَيْهَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ بَقِيَّةً مِنْ صَدَاقِهَا وَبِمُتْعَةِ عِشْرِينَ أَلْفَ دِرْهَمٍ، فَلَمَّا جَاءَهَا الرَّسُولُ وَرَأَتِ الْمَالَ قَالَتْ: مَتَاعٌ قَلِيلٌ مِنْ حَبِيبٍ مُفَارِقٍ، فَأَخْبَرَ الرَّسُولُ الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَبَكَى وَقَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ عَنْ جَدِّي النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا لَمْ تَحِلَّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ " لَرَاجَعْتُهَا، وَقَدْ جَاءَ فِي مُتْعَةِ الْمَدْخُولِ بِهَا مَا.سوید بن غفلہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خثعمیہ سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھی، جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت کی گئی تو سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما اس کے پاس آئے تو اس نے کہا: آپ کو خلافت مبارک ہو۔ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”تو نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے قتل کی خوشی ظاہر کی ہے، تجھے تین طلاقیں ہیں۔“ اس نے کپڑے میں اپنا منہ چھپالیا اور کہنے لگی: میرا یہ ارادہ نہ تھا، وہ ٹھہری رہی، جب عدت ختم ہوگئی تو چلی گئی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے اس کا باقی ماندہ حق مہر اور فائدہ کے لیے ۲۰ ہزار درہم دیے، جب آپ کا قاصد پہنچا اور اس نے مال دیکھا تو کہنے لگی کہ جدا ہونے والے محبوب کے مقابلے میں یہ مال بہت ہی کم ہے، تو قاصد نے سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کو بتایا تو وہ رو پڑے اور فرمایا: ”اگر میں نے اپنے باپ کو اپنے نانا یعنی نبی ﷺ سے نقل فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا کہ ”جس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو وہ اس کے لیے حلال نہیں ہے جب تک وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے“ تو میں رجوع کرلیتا۔“