السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: من قال من أغلق بابا أو أرخى سترا فقد وجب الصداق وما روي في معناه باب: اس شخص کا قول جس نے کہا کہ ”جس نے دروازہ بند کر لیا یا پردہ گرا دیا تو مہر واجب ہو گیا“ اور اس معنی میں وارد ہونے والی دیگر روایات کا بیان۔
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: تَزَوَّجَ الْحَارِثُ بْنُ الْحَكَمِ امْرَأَةً فَقَالَ عِنْدَهَا، فَرَآهَا خَضْرَاءَ فَطَلَّقَهَا وَلَمْ يَمَسَّهَا، فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ زَيْدٌ: " لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا " قَالَ: إِنَّهُ مِمَّنْ لَا يُتَّهَمُ قَالَ: أَرَأَيْتَ يَا مَرْوَانُ لَوْ كَانَتْ حُبْلَى أَكُنْتَ مُقِيمًا عَلَيْهَا الْحَدَّ؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَلَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ وَذَكَرَ فِي الْقِصَّةِ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ أَطَأْهَا وَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: قَدْ وَطِئَنِي ثُمَّ قَالَ فِي آخِرِهَا: فَكَذَلِكَ تُصَدَّقُ الْمَرْأَةُ مِثْلَ هَذَا ظَاهِرُ مَا رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُمَا جَعَلَا الْخَلْوَةَ كَالْقَبْضِ فِي الْبُيُوعِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: مَا ذَنْبُهُنَّ إِنْ جَاءَ الْعَجْزُ مِنْ قِبَلِكُمْ، وَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُقْضَى بِالْمَهْرِ وَإِنْ لَمْ تَدَّعِ الْمَسِيسَ ⦗٤١٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَظَاهِرُ الرِّوَايَةِ عَنْهُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَا يُوجِبُهُ بِنَفْسِ الْخَلْوَةِ لَكِنْ يُجْعَلُ الْقَوْلُ قولها فِي الْإِصَابَةِ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ.سیدنا سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حارث بن حکم نے ایک عورت سے نکاح کیا تو حارث نے کچھ نقص دیکھ کر بغیر چھوئے طلاق دے دی، تو مروان نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کے لیے کسی کو روانہ کیا، تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے لیے مکمل حق مہر ہے، وہ کہنے لگے: اس پر کسی قسم کی تہمت نہیں لگائی گئی، تو زید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگرچہ وہ حاملہ ہو تو کیا پھر آپ اس پر حد قائم کریں گے؟ تو مروان نے کہا: نہیں، تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر نہیں۔
(ب) سلیمان رحمہ اللہ نے ایسا قصہ ذکر کیا کہ مرد نے کہہ دیا: میں نے مجامعت نہیں کی، جبکہ عورت کہتی ہے کہ اس نے وطی کی ہے، اس کے آخر میں ہے کہ اسی طرح ایسے معاملے میں عورت کی بات سچی مانی جائے گی۔
(ج) سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما سے جو ہم نے روایت کیا ہے اس کا ظاہر یہ بتاتا ہے کہ انہوں نے تنہائی میں عورت کو لے جانے کو ویسے ہی قرار دیا جیسے بیوع میں قبضہ کرنا ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان عورتوں کا کیا گناہ، اگر عاجزی تمہاری طرف سے ہو، یہ اس بات کی دلیل ہے کہ مہر کا فیصلہ کیا جائے گا اگرچہ عورت مجامعت کا دعویٰ نہ بھی کرے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کا ظاہر یہ بتاتا ہے کہ ان کے نزدیک خالی خلوت سے حق مہر واجب نہ ہوگا لیکن مجامعت کے بارے میں عورت کی بات معتبر ہے، اور اس بارے میں نبی ﷺ سے مرسل سند کے ساتھ روایت بیان کی گئی ہے۔