حدیث نمبر: 14486
وَرَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ قَالَ: تَزَوَّجَ الْحَارِثُ بْنُ الْحَكَمِ امْرَأَةً فَقَالَ عِنْدَهَا، فَرَآهَا خَضْرَاءَ فَطَلَّقَهَا وَلَمْ يَمَسَّهَا، فَأَرْسَلَ مَرْوَانُ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ فَسَأَلَهُ فَقَالَ زَيْدٌ: " لَهَا الصَّدَاقُ كَامِلًا " قَالَ: إِنَّهُ مِمَّنْ لَا يُتَّهَمُ قَالَ: أَرَأَيْتَ يَا مَرْوَانُ لَوْ كَانَتْ حُبْلَى أَكُنْتَ مُقِيمًا عَلَيْهَا الْحَدَّ؟ قَالَ: لَا قَالَ: فَلَا أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ الْجَوْهَرِيُّ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ ثنا سُفْيَانُ فَذَكَرَهُ وَرَوَاهُ بُكَيْرُ بْنُ الْأَشَجِّ عَنْ سُلَيْمَانَ وَذَكَرَ فِي الْقِصَّةِ أَنَّهُ قَالَ: لَمْ أَطَأْهَا وَقَالَتِ الْمَرْأَةُ: قَدْ وَطِئَنِي ثُمَّ قَالَ فِي آخِرِهَا: فَكَذَلِكَ تُصَدَّقُ الْمَرْأَةُ مِثْلَ هَذَا ظَاهِرُ مَا رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُمَا جَعَلَا الْخَلْوَةَ كَالْقَبْضِ فِي الْبُيُوعِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَرُوِيَ عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: مَا ذَنْبُهُنَّ إِنْ جَاءَ الْعَجْزُ مِنْ قِبَلِكُمْ، وَذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ يُقْضَى بِالْمَهْرِ وَإِنْ لَمْ تَدَّعِ الْمَسِيسَ ⦗٤١٨⦘ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَمَّا زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ فَظَاهِرُ الرِّوَايَةِ عَنْهُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ لَا يُوجِبُهُ بِنَفْسِ الْخَلْوَةِ لَكِنْ يُجْعَلُ الْقَوْلُ قولها فِي الْإِصَابَةِ، وَرُوِيَ فِي ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِسْنَادٍ مُرْسَلٍ.
حافظ ثناء اللہ

سیدنا سلیمان بن یسار رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حارث بن حکم نے ایک عورت سے نکاح کیا تو حارث نے کچھ نقص دیکھ کر بغیر چھوئے طلاق دے دی، تو مروان نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے پوچھنے کے لیے کسی کو روانہ کیا، تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا: اس کے لیے مکمل حق مہر ہے، وہ کہنے لگے: اس پر کسی قسم کی تہمت نہیں لگائی گئی، تو زید رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: اگرچہ وہ حاملہ ہو تو کیا پھر آپ اس پر حد قائم کریں گے؟ تو مروان نے کہا: نہیں، تو زید رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر نہیں۔
(ب) سلیمان رحمہ اللہ نے ایسا قصہ ذکر کیا کہ مرد نے کہہ دیا: میں نے مجامعت نہیں کی، جبکہ عورت کہتی ہے کہ اس نے وطی کی ہے، اس کے آخر میں ہے کہ عورت کو مہرِ مثل دیا جائے گا۔
(ج) سیدنا عمر اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ تنہائی میں عورت کو لے جانا یہ ویسے ہے جیسے بیوع میں قبضہ کرنا ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان عورتوں کا کیا گناہ، جب وہ عاجز آ جائے تو اس لیے مہر کا فیصلہ کیا جائے گا اگرچہ مجامعت کا دعویٰ نہ بھی کرے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خالی خلوت سے حق مہر واجب نہ ہوگا لیکن مجامعت کے بارے میں عورت کی بات معتبر ہے۔

حوالہ حدیث السنن الكبرى للبيهقي / كتاب الصداق / حدیث: 14486
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح»