السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الغسل من غسل الميت باب: میت کو غسل دینے کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ، قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا مَنَعَنِي عَنْ إِيجَابِ الْغُسْلِ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ أَنَّ فِي إِسْنَادِهِ رَجُلًا لَمْ أَقْنَعْ عَنْ مَعْرِفَةِ مَنْ ثَبَّتَ حَدِيثَهُ إِلَى يَوْمِي عَلَى مَا يُقْنِعُنِي فَإِنْ وَجَدْتُ مَنْ يُقْنِعُنِي أَوْجَبْتُهُ وَأَوْجَبْتُ الْوُضُوءَ مِنْ مَسِّ الْمَيِّتِ مُفْضِيًا إِلَيْهِ فَإِنَّهُمَا فِي حَدِيثٍ وَاحِدٍ ⦗٤٥١⦘ وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنٍ إِسْحَاقَ أنبأ أَبُو بَكْرٍ الْمُطَرِّزُ قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ يَحْيَى يَقُولُ: لَا أَعْلَمُ فِيمَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا فَلْيَغْتَسِلْ حَدِيثًا ثَابِتًا وَلَوْ ثَبَتَ لَزِمَنَا اسْتِعْمَالُهُ، قَالَ الْإِمَامُ أَحْمَدُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ مَرْفُوعًا.(الف) امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مجھے میت کو غسل دینے کے بعد غسل کے واجب ہونے والی حدیث پر عمل کرنے سے اس بات نے روکا ہے جو اس کی سند میں راوی ہے، جس کی آج تک معرفت حاصل نہیں ہو سکی جو مجھے یقین دلاتی۔ اگر مجھے قابل اعتماد کوئی حدیث مل جاتی تو میں اس کو فرض قرار دے دیتا اور جو میت کو چھوتا اس پر وضو قرار دیتا۔
(ب) ابوبکر مطرز کہتے ہیں: میں نے محمد بن یحییٰ رحمہ اللہ سے سنا کہ میں نہیں جانتا اس حدیث کے متعلق جو میت کو غسل دے کر غسل کرنے کے متعلق ہے اور اگر ثابت ہو جائے تو اسے لازم قرار دیں گے۔ (ج) امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ایک ضعیف سند میں سیدنا ابوسلمہ رضی اللہ عنہ سے مرفوع روایت منقول ہے۔