السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
باب: الغسل من غسل الميت باب: میت کو غسل دینے کی وجہ سے غسل کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1440
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ السِّجِسْتَانِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ، يَقُولُ وَسُئِلَ عَنِ الْغُسْلِ مِنْ غُسْلِ الْمَيِّتِ فَقَالَ: " يُجْزِيهِ الْوُضُوءُ " أَدْخَلَ أَبُو صَالِحٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي هَذَا يَعْنِي إِسْحَاقَ مَوْلَى زَائِدَةَ قَالَ: وَحَدِيثُ مُصْعَبٍ ضَعِيفٌ فِيهِ خِصَالٌ لَيْسَ عَلَيْهِ الْعَمَلُ قَالَ الشَّيْخُ: وَقَالَ أَبُو عِيسَى: سَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيَّ عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: إِنَّ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ وَعَلِيَّ بْنَ عَبْدِ اللهِ قَالَا: لَا يَصِحُّ فِي الْبَابِ شَيْءٌ قَالَ مُحَمَّدٌ: وَحَدِيثُ عَائِشَةَ فِي هَذَا الْبَابِ لَيْسَ بِذَاكَ.حافظ ثناء اللہ
(الف) امام ابوداؤد سجستانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ سے سنا، جب ان سے میت کو غسل دینے سے غسل کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے فرمایا: اس کو وضو کفایت کر جائے گا۔ (ب) یہ حدیثِ مصعب ضعیف ہے، اس میں بعض ایسی چیزیں ہیں جن پر عمل نہیں ہے۔ (ج) شیخ کہتے ہیں کہ امام ترمذی رحمہ اللہ نے امام بخاری رحمہ اللہ سے اس حدیث کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ امام احمد بن حنبل اور علی بن عبداللہ رحمہما اللہ فرماتے ہیں: اس باب میں کوئی چیز بھی درست نہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حدیثِ عائشہ رضی اللہ عنہا قابلِ حجت نہیں۔