السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: النكاح على تعليم القرآن باب: قرآن مجید سکھانے پر (بطورِ مہر) نکاح کرنے کا بیان۔
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى الْمُزَكِّي ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ مَالِكٌ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللهِ إِنِّي قَدْ وَهَبْتُ نَفْسِي لَكَ فَقَامَتْ قِيَامًا طَوِيلًا فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ زَوِّجْنِيهَا إِنْ لَمْ تَكُنْ لَكَ بِهَا حَاجَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تُصْدِقُهَا إِيَّاهُ؟ " فَقَالَ: مَا عِنْدِي إِلَّا إِزَارِي هَذَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ أَعْطَيْتَهَا إِيَّاهُ جَلَسْتَ لَا إِزَارَ لَكَ، فَالْتَمِسْ شَيْئًا"، فَقَالَ: مَا أَجِدُ شَيْئًا قَالَ: " الْتَمِسْ وَلَوْ خَاتَمًا مِنْ حَدِيدٍ"، فَالْتَمَسَ فَلَمْ يَجِدْ شَيْئًا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْءٌ؟ " قَالَ: نَعَمْ سُورَةُ كَذَا، وَسُورَةُ كَذَا، لِسُوَرٍ سَمَّاهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَدْ زَوَّجْتُكَهَا بِمَا مَعَكَ مِنَ الْقُرْآنِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ أَبِي حَازِمٍ..ابو حازم، حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک عورت نبی ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی: ”میں نے اپنا نفس آپ کے لیے ہبہ کر دیا ہے“، وہ زیادہ دیر کھڑی رہی تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر کہا: ”اے اللہ کے رسول! اگر آپ کو ضرورت نہیں تو میرا نکاح کر دیں“، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”کیا تیرے پاس حق مہر دینے کے لیے کچھ ہے؟“ وہ کہتا ہے: ”میری یہ چادر ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر چادر تو نے اس کو دے دی تو پھر تو بغیر چادر کے رہ جائے گا، کچھ تلاش کرو“، اس نے کہا: ”میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے“، آپ ﷺ نے فرمایا: ”لوہے کی انگوٹھی ہی تلاش کرو“، تلاش کے باوجود اس کو کچھ نہ ملا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا تجھے قرآن یاد ہے؟“ کہنے لگا: ”فلاں فلاں سورت یاد ہے“، اس نے نام لیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا اس قرآن کے عوض جو تجھے یاد ہے“۔