السنن الكبرى للبيهقي
كتاب الصداق— مہر کا بیان۔
باب: ما يجوز أن يكون مهرا باب: اس چیز کا بیان جو مہر کے طور پر جائز ہے۔
حدیث نمبر: 14381
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ حَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، وَشَرِيكٌ، عَنْ أَبِي هَارُونَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ شَرِيكٌ: رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَيْسَ عَلَى الرَّجُلِ جُنَاحٌ أَنْ يَتَزَوَّجَ بِقَلِيلٍ أَوْ كَثِيرٍ مِنْ مَالِهِ إِذَا تَرَاضَوْا وَأَشْهِدُوا " ⦗٣٩٢⦘ أَبُو هَارُونَ الْعَبْدِيُّ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ ضَعِيفٍ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مَرْفُوعًا قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَبَلَغَنَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: فِي ثَلَاثِ قَبَضَاتِ زَبِيبٍ مَهْرٌ.حافظ ثناء اللہ
سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، شریک اسے مرفوع بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”انسان پر گناہ نہیں ہے کہ وہ تھوڑے یا زیادہ مال کے عوض شادی کرے، جب وہ آپس میں رضامند ہوں اور گواہ بنا لیں۔“
ابو ہارون عبدی قابلِ حجت نہیں ہے، اور یہ روایت ایک دوسری ضعیف سند سے بھی سیدنا ابو سعید رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً مروی ہے۔
«قَالَ الشَّافِعِيُّ» ”امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا:“ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تین مٹھی منقہ کے عوض یعنی حق مہر نکاح کرے۔